خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 364
خطبات طاہر جلداا 364 خطبه جمعه ۲۹ رمئی ۱۹۹۲ء دیہات میں معلوم کیا کہ کون لوگ تھے جو پہلے احمدی ہوئے ، تو بسا اوقات یہ معلوم کر کے حیران رہ جاتا تھا کہ ابتدائی احمدی ہونے والے کوئی بڑے عالم نہیں تھے ، سیدھے سادھے سادہ لوح زمیندار ۔ اگر پڑھنا جانتے تھے تو بس شدھ بدھ کی حد تک اس سے زیادہ نہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ کو ایک نظر دیکھا وہ نظر عشق میں تبدیل ہو گئی ۔ وہ عشق جنون میں بدل گیا اور وہی جنون تھا جس نے ان کے علاقوں میں ایک عظیم انقلاب برپا کر دیا۔ حیرت انگیز بات ہے کہ تھوڑے تھوڑے سادہ لوح تقریباً ان پڑھ زمینداروں نے اپنے علاقوں میں ہر طرف ایک تہلکہ مچا دیا ۔ پس احمدیت کا آغاز حقیقتاً وہی آغاز ہے جو اسلام کا آغاز تھا اور ہمیشہ کے لئے سچا آغاز کہلانے کا مستحق یہی آغاز ہے جو آج بھی ہے، کل بھی ایسا ہی ہوگا۔ پس آج احمدیت خدا کے فضل کے ساتھ دوبارہ اسی مضمون کی طرف لوٹ رہی ہے اور جگہ جگہ میں نظر دوڑا کے دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہر شخص خواہ وہ علم میں کسی مقام پر ہو یا لاعلمی میں کسی جگہ کھڑا ہو اس کا اب ایک ہی جیسا حال ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ ان پڑھ بھی تبلیغ کر رہے ہیں، پڑھے لکھے بھی تبلیغ کر رہے ہیں ۔ رفتہ رفتہ یہ جوش اور ولولہ پھیلتا چلا جا رہا ہے ، بچوں میں بھی و گیا ہے لڑکیاں بھی اپنی اپنی توفیق کے مطابق اپنے سکولوں میں تبلیغ کرتی ہیں دورے کے وقت مجھے نئے دلکش مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے پہلے جب میں سپین میں آیا تھا میں نے آپ کو خود بتایا تھا کہ ایک لحاظ سے طبیعت بڑی برگشتہ اور مایوس تھی ایک لمبے عرصے سے یہاں مشن قائم تھا لیکن سوائے ا تھا لیکن سوائے ایک خاندان کے اور سوائے ایک دو اور افراد کے کسی کو تبلیغ کا شوق نہیں تھا۔ جب میں آیا میرے ساتھ نوجوان سیروں پر گئے ان کو سمجھایا ، مجلسوں میں بیٹھ کر باتیں ہوئیں۔ اللہ تعالی کے فضل کے ساتھ زمین زرخیز تھی اور بیج کو قبول کرنے والی تھی ۔ چنانچہ اب جب میں نے یہاں دیکھا ہے تو خدا کے فضل سے ایسے ایسے نوجوان اور مرد اور عورتیں اور بچے تبلیغ میں مصروف ہو چکے ہیں کہ ان کی کوشش کے نتیجے میں جن لوگوں کو دلچسپی پیدا ہوئی ہے وہ آکر گواہی دیتے ہیں ، وہ ملتے ہیں تو بتاتے ہیں کہ کیوں ان کو احمدیت کی طرف توجہ پیدا ہوئی ۔ اور سب سے اچھی توجہ ۔ رپورٹ وہی ہے جو متاثر آدمی دیا کرتے ہیں ورنہ اپنے ہاتھ سے لکھ لکھ کر خط بھجوانا کہ ہم اتنی تبلیغ کر رہے ہیں اور اتنی تبلیغ کر رہے ہیں وقتی طور پر وہ خوشی تو پہنچا دیتا ہے لیکن یقین کے مقام تک نہیں