خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 363 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 363

خطبات طاہر جلدا 363 خطبه جمعه ۲۹ رمئی ۱۹۹۲ء صلى الله عليه پس یہی وہ نکتہ تھا جس کو عرب حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ذات میں پہچان گئے تھے، جانتے تھے اس عقل و دانش کے سرچشمے کو اگر عشق کا دیوانہ نہ کہا جائے تو کوئی ہماری بات کو تسلیم کرے گا اور اس لحاظ سے یہ بات عارفانہ تھی حقیقت یہی ہے کہ حضرت ت یہی ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی کوا علي نہیں اپنے رب سے عشق ہو گیا تھا۔ ورنہ جو راہ خدا میں دیوانگی کے کام آپ سے ظاہر ہوئے جو حیرت انگیز کام جو دیکھنے والے کو نا ممکن دکھائی دیتے تھے آپ کی ظاہری طور پر بے بس اور بے کس ذات سے وہ عظیم معجزے جو ظاہر ہوئے ہیں یہ حقیقت میں عشق ہی کے معجزے تھے۔ اور حقیقی عشق ہی ہے جو عقل و دانش کو کامل کرتا ہے اور پختہ کرتا ہے۔ عشق کی دیوانگی کے بعد انسان جانتا ہے کہ عقل کے کیا معنی ہیں ۔ پس جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا احمدیت کا آغاز وہی آغاز سچا ہو گا جو اسلام کا آغاز تھا جس کے بغیر احمدیت کے کسی دوسرے آغاز کے کوئی معنی نہیں اور ان معنوں میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس شعر پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے اسی طرح احمدیت کا آغاز فرمایا جیسا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو عشق کے نتیجے میں جنون عطا ہوا۔ اسی طرح حضرت مسیح صلى الله علوس موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آپ ﷺ کی غلامی میں پہلے عشق اور پھر جنون عطا ہوا تھا پھر جنون کا عرفان عطا ہوا اور آپ سمجھ گئے کہ اس کے بغیر دنیا میں انقلاب برپا کرنا ممکن نہیں اور آپ کے زمانے میں ایسا ہی ہوا۔ کوئی مدرسہ جاری نہیں ہوا جس میں مبلغ تیار ہوتے ہوں ، کوئی ایسی کتابیں نہیں تھیں جو تدریس کے طور پر پڑھائی جاتی ہوں ۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایسے ادنی ادنیٰ غلام بھی جن کو کوئی تعلیم حاصل نہیں تھی ، دنیا کی بھی کوئی تعلیم حاصل نہیں تھی، لفظوں کی شدھ بدھ سے بھی واقف نہیں تھے ۔ وہ بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی غلامی میں آکر ایسے صاحب عرفان بنے کہ بڑے بڑے لوگوں کے منہ اُنہوں نے بند کر دیئے ۔ ایسا علم ان کو عطا ہوا جو روحانی علم تھا، جو قرآن کا علم تھا ، جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان سے روحانی چشموں کی صورت میں جاری رہتا تھا اور آپ کے دل سے نور کے سوتوں کی طرح پھوٹا کرتا تھا ، ان کے دماغوں کو بھی معطر کر دیتا تھا اور دلوں کو بھی روشن کر دیتا تھا ۔ وہ یہ نور لئے پھرتے تھے جس سے وہ اپنے علاقوں کو روشنی عطا کرتے رہے۔ چنانچہ احمدیت کے آغاز کی تاریخ میں جب میں نے پاکستان میں دورے کے وقت مختلف