خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 362 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 362

خطبات طاہر جلد ۱۱ 362 خطبه جمعه ۲۹ رمئی ۱۹۹۲ء بے خبر نہیں تھا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی اہل علم ودانش کا سر چشمہ ہیں۔پس جنون کہنے کے ساتھ اس کی کوئی تو جیہہ بتانی ضروری تھی ، یہ بتانا ضروری تھا کہ یہ عشق کا جنون ہے اس کے بغیر کوئی سننے والا اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتا۔عشق کا جنون ایسا جنون ہے جو عاقل کو بھی دیوانہ کر دیتا ہے اور عقل اور دیوانگی میں جو دوری پائی جاتی ہے جو بعد ہے، عشق کا پل ہے جو ا سے پاٹ دیتا ہے، یکجا کر دیا کرتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی مضمون کو ایسی پیاری زبان میں بیان فرمایا جب یہ کہا تا نه دیوانه شدم، ہوش نیامد بسرم اے جنوں، گرد تو گردم که چرا احساں کر دی ( در نشین فارسی صفحه: ۲۱۷) جب تک میں دیوانہ نہیں ہو گیا مجھے ہوش نہیں آیا، لیکن یہ دیوانگی آئی کہاں سے۔اے جنوں ، گرد تو گردم که چرا احساں کر دی۔یہ عشق کا جنوں تھا جس نے یہ دیوانگی عطا فرمائی۔تو جس کا مضمون محبت اور عشق کا چل رہا ہے۔پہلا شعر یہ ہے اے محبت عجب آثار نمایاں کر دی زخم و مرہم برہ یار تو یکساں کر دی ( در مشین فارسی صفحہ ۲۱۷) پس اس پہلے شعر کی روشنی میں جب آپ اس شعر کو پڑھتے اور سمجھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ محبت کا مضمون ہے اور محبت ہی وہ چیز ہے جو عقل اور جنون کو اکٹھا کر دیا کرتی ہے۔پہلے شعر کا مطلب جن کو فارسی نہیں آتی ان کی خاطر بتاتا ہوں۔فرماتے ہیں : اے محبت عجب آثار نمایاں کر دی۔اے محبت تو نے عجیب قسم کے نشان ظاہر کئے ہیں۔زخم و مرہم برہ یار تو یکساں کر دی۔تو نے زخم اور مرہم کو یار کے رستے میں اکٹھا کر دیا ہے۔زخم اور مرہم دو جدا چیز میں ہیں۔ایک ہی چیز جوز خم بھی ہو جائے اور مرہم بھی بن جائے اسی کا نام جنون ہے۔تانہ دیوانہ شدم ہوش نیامد بسرم دیکھیں اسی مضمون کو کس عمدگی سے آپ نے آگے بڑھایا۔یہ جو بات میں کہہ رہا ہوں یہ تو دیوانگی کی بات ہے۔زخم اور مرہم ایک کیسے ہو سکتے ہیں۔ایک ہی چیز کے دو نام کیسے بن سکتے ہیں۔فرمایا اس طرح کہ تمہیں عشق میں جنون ہو جائے۔تا نہ دیوانہ شدم ہوش نیامد بسرم۔جب تک میں دیوانہ نہیں ہو گیا مجھے ہوش نہیں آئی۔اے جنوں گرد تو گردم۔اے جنوں تو میرا کعبہ بن جا۔تیرے گرد میں گھوموں۔تو نے کتنا بڑا احسان کیا ہے۔