خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 361 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 361

خطبات طاہر جلد ۱۱ 361 خطبه جمعه ۲۹ رمئی ۱۹۹۲ء تو سب سرداروں نے بغیر کسی اختلاف کے اپنی عمر اور سرداری کے رعب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس چھوٹی عمر کے نوجوان سے یہ کہا کہ آپ بتائیں کہ ہم میں سے کون زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس پتھر کو اٹھا کر اس موعود جگہ پر نصب کرے جو مقرر کی گئی ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے بغیر جھجک کے ایک ایسا فیصلہ دیا جوعلم و حکمت اور دانش کی تاریخ میں ہمیشہ یاد گار رہے گا۔آپ نے فرمایا کہ ایک چادر لاؤ اس چادر کو بچھایا گیا۔فرمایا تم سب سردار اس چادر کے کونے پکڑ لو اور خود پتھر اٹھا کر اس چادر کے بیچ میں رکھ دیا۔جس کا حق تھا اُسے پہنچ گیا اور کسی کو کوئی تکلیف نہ ہوئی۔کسی کے ذہن میں یہ بات نہ گئی کہ اس پتھر کو نصب کرنے کا اولی حق حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ ہی کو ہے لیکن یہ بات ابھی منصہ شہود پر ابھری نہیں تھی ، ابھی حقیقت بن کر سامنے نہیں آئی تھی۔آنحضرت ﷺ کی صلاحیتوں سے تو وہ باخبر تھے مگر یہ بھی جانتے تھے کہ اس نور پر ایک آسمان سے اترنے والا ایک نور ہے جو اس نور کو ایسا دوبالا کر دے گا کہ اس کی کوئی مثال دنیا میں کہیں دکھائی نہیں دے گی۔پس آنحضرت ﷺ کی عقل نے اپنی معصومیت میں وہ فیصلہ کیا جو دیکھنے والے کی نگاہ میں خود غرضی کا بھی ہوسکتا تھا لیکن سارا عرب گواہ ہے کہ کسی دماغ کے گوشے میں بھی یہ وہم نہیں گیا کہ آنحضور تی ہے نے خود اپنی خاطر پتھر پہلے اٹھانے کی خاطر یہ فیصلہ کیا ہے۔اس کے سواحل کوئی نہیں تھا۔خود بخود تو پتھر لڑھک کر اُس چادر پہ جانہیں سکتا تھا۔منصفانہ تقسیم اس سے زیادہ ہو نہیں سکتی تھی کہ سب سرداروں کو کہا جائے کہ تم بیک وقت چادر کو پکڑ لو اور اس پتھر کو اٹھا کر اس چادر پر رکھتا کون؟ وہی معصوم انسان جس کے ذہن میں یہ ترکیب آئی۔اس نے فیصلہ کیا کہ میں اٹھا کر رکھ دیتا ہوں تا کہ سرداروں کا جھگڑا ختم ہولیکن دراصل اس میں آئندہ ہونے والے واقعات کا ایک بیج تھا جو بڑی عمدگی اور پاکیزگی کے ساتھ بویا گیا۔سارے عرب کی سرداری نہیں ، تمام دنیا کی سرداری آپ کو عطا ہونی تھی کیونکہ خانہ کعبہ عربوں کی آماجگاہ نہیں بلکہ جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اَوَلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ ( آل عمران : ۹۷) یہ وہ پہلا گھر ہے خدا کا جو تمام بنی نوع انسان کے لئے بنایا گیا اور بكة میں بنایا گیا ہے۔پس آپ کو اس گھر کی سرداری عطا ہوئی تھی جو تمام دنیا میں خدا کی خاطر بنانے والے گھروں میں سب سے پہلا گھر تھا اور سارے بنی نوع انسان کے لئے مشترک اس لئے یہ کہنا کسی عرب سے یہ ممکن نہیں تھا کہ آپ کو مجنون کہہ دیتا۔جانتا تھا اور بچہ بچہ جانتا تھا، کوئی اس بات سے عرب میں