خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 360 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 360

خطبات طاہر جلد ۱۱ 360 خطبه جمعه ۲۹ رمئی ۱۹۹۲ء لاتے ہوئے ان سب نے کوشش ضرور کی کہ اپنے آقا و مولیٰ کے قدم پر قدم رکھیں۔اور جیسے آپ کو خدا کا پیغام پہنچانے کا اس قدر ولولہ تھا کہ لوگ کہتے تھے کہ اپنے رب کی محبت میں یہ پاگل ہو گیا ہے۔عَشِقَ مُحَمَّدٌ رَبَّهُ۔(غزالی صفحه: ۱۵۱) محمد تو اپنے رب پر عاشق ہو گیا ہے اور اسی کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے تھے یہ مجنون ہے اِنَّكَ لَمَجْنُونُ (سورة الحجر ۷) تو تو مجنون ہے، تجھے تو جنون ہو چکا ہے۔در حقیقت بظاہر یہ ایک بہت ہی بیہودہ اور تکلیف دہ بات تھی لیکن در حقیقت اس میں ایک گہرا راز ہے اور ایک بہت عارفانہ نکتہ ہے جسے بطور عارفانہ نکتہ کے تو انہوں نے نہیں سمجھا۔جہاں تک ان کی زبانوں کا تعلق ہے وہ ہرزہ سرائی تھی لیکن فی الحقیقت اس میں ایک بہت گہرا عارفانہ نکتہ ہے کہ تبلیغ کا جنون اسی کو ہو سکتا ہے جو اپنے رب کا عاشق ہو جائے۔جو شخص اپنے رب پر عاشق ہو وہ لازماً اپنے عشق کی دھن میں دنیا کو اس طرف بلاتا رہے گا۔اس سے بے نیاز اور قطع نظر کہ دنیا اسے کیا کہتی ہے، کیا بجھتی ہے۔پس ان دونوں باتوں میں ایک گہرا جوڑ تھا۔حضرت اقدس محمد مصطفی ماہ کے متعلق سارا عرب جانتا تھا کہ ان سب میں سب سے زیادہ صاحب عقل اور صاحب دانش تھے بچپن سے جوانی تک ، جوانی سے پختگی کی عمر تک آپ نے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو اپنے میں سے سب سے زیادہ امین ،سب سے زیادہ صدیق، سب سے زیادہ عقل اور حکمت کی باتیں کرتے ہوئے پایا چنانچہ ہرایسے مشورے کے لئے جس میں قوم کے لئے زندگی اور موت کا سوال ہوتا یا ہر ایسے مشورے کے لئے جس کے لئے ایک صائب الرائے کے لئے نظریں کسی معقول انسان کو تلاش کیا کرتی تھیں سب نظریں بلاشبہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ ہی کی طرف اٹھا کرتی تھیں۔یہی نہیں بلکہ بچپن ہی سے آپ کے عقل و دانش کی ایسی دھاک بیٹھی ہوئی تھی کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت بھی جبکہ آپ کی عمر چھوٹی تھی جب عرب سرداروں میں خوب جھگڑا ہوا کہ کس قوم کو پہلا حق دیا جائے کہ وہ حجر اسود کو اٹھا کر اس جگہ نصب کرے جو اس کے لئے مقرر کی گئی تھی اور یہ جھگڑا کسی طرح طے نہیں ہوتا تھا۔تو اچانک لوگوں کی نگاہیں اٹھیں اور انہوں نے حضرت محمد مصطفی ایت اللہ کو جب وہ خدا کے نبی بنائے نہیں گئے تھے، کو ابھی بچپن کی عمر میں تھے اپنی طرف آتے دیکھا اور سب نے بے اختیار کہا کہ وہ آنے والا آ گیا ہے۔یہ سب جھگڑے طے کر دے گا، اسی کی طرف بات کو لوٹا دو۔چنانچہ آنحضور کے جب اس مقام پر پہنچے صلى الله