خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 359
خطبات طاہر جلد ۱۱ 359 خطبه جمعه ۲۹ مئی ۱۹۹۲ء اپنی ذات کیلئے خود مربی بنیں۔نو مبائع کا اول ذمہ دار داعی الی اللہ ہے۔خطبه جمعه فرموده ۲۹ مئی ۱۹۹۲ء بمقام سپین ) تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ احمدیت اب ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جبکہ ہر احمدی خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا بالآخر انشاء اللہ تعالیٰ داعی الی اللہ بن جائے گا اور وہ دور پیچھے رہ جائے گا جب احمدی یہ سمجھا کرتے تھے کہ تبلیغ کرنا مبلغ یا مربی کا کام ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ مبلغ اور مربی تو بہت بعد کی پیداوار ہیں۔احمدیت کا آغاز وہی اچھا آغاز ہے جو اسلام کے آغاز جیسا ہو کیونکہ احمدیت اسلام کے ہی آغا ز کو کا نام ہے۔حضرت اقدس محمد مصفی ہی نہ تشریف لائے تو کوئی مربی کسی ظاہری طور پر رسمی طور پر واقف زندگی کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا تھا، کوئی مدرسہ نہیں تھا سوائے اس روحانی مدرسہ کے جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے جاری فرمایا اور جس کی درسی کتاب صرف قرآن تھی۔اس کے سوا نہ کوئی مدرسہ تھا نہ کوئی اور کتب تھیں۔حدیثیں بھی زبانی نصیحت کے طور پر آپ کے عشاق میں گھوما کرتی تھیں۔تو پڑھنے کے لئے حدیثوں کی کتاب بھی موجود نہیں تھی۔ایسی حالت میں اسلام پھیلا ہے کہ ہر وہ شخص جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لایا اس نے آپ ہی کے رنگ اختیار کرنے کی کوشش کی۔جیسا مبلغ ، جیسا مربی آپ کو پایا، ویسا مبلغ اور ویسا مربی بنا تو کسی دوسرے کے بس کی بات نہیں تھی مگر پوری دیانتداری کے ساتھ ، پورے تقویٰ کے ساتھ ، انتہائی خلوص کے ساتھ اپنی تمام صلاحیتوں کو کام