خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 356
خطبات طاہر جلدا 356 خطبه جمعه ۱۵ رمئی ۱۹۹۲ء کہ بعض اخلاق میں آپ پیچھے رہ گئے ۔ کچھ کو اختیار کیا اور کچھ چھوڑ دیتے ۔ حَظٍّ عَظِیم میں عظیم کا لفظ بتا رہا ہے کہ سب سے بالا سب سے شاندار اخلاق کو آپ نے اپنا لیا اور جو چھوڑ دیئے ہیں وہ عام لوگوں کے اخلاق سنوارنے کے لئے بھی کافی ہیں۔ وہ ایسے اخلاق ہیں جو عام طور پر دنیا میں کوئی اختیار کرے تو وہی دنیا میں بہت ہی خلیق اور اعلیٰ اخلاق کے انسان کے طور پر شہرت پالے۔ پس جب میں نے کہا کہ باقی اخلاق بھی اگر مسلمان اپنا لیس إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا میں تو وہ بھی داخل ہو جائیں مگر ہمارے سپرد جو کام ہے وہ بہت عظیم ہے اس لئے ہمیں عام اخلاق سے بڑھ کر وہ حصہ جو محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنے لئے چنا ہے اس میں سے بھی کچھ آپ سے مانگنا چاہئے او صلى الله او سمجھ راس میں سے بھی کچھ اپنے لئے اختیار کرنا چاہئے ۔ یہ وہ مضمون ہے جسے اگر آپ اچھی طرح جائیں تو آپ کی دعوت الی اللہ کا کام مشکل ہونے کی بجائے آسان ہو جائے گا۔ مصیبت بننے کی بجائے ایک راحت میں تبدیل ہو جائے گا ۔ ساری زندگی آپ اس کام میں لگے رہیں کبھی آپ صلى الله علوسم نہیں تھکیں گے کیونکہ آنحضور ﷺ آخری سانس تک اس کام سے نہیں تھکے ۔ آپ کو اس تکلیف صلى الله میں راحت ملے گی جو اس راہ میں آپ اُٹھاتے ہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ کو اس تکلیف میں راحت ملا کرتی تھی جو آپ اس راہ میں اُٹھاتے تھے۔ پر حَظٍّ عَظِيمٍ کی طرف توجہ کریں اور کام اتنا بڑا ہے اور اتنا مشکل ہے کہ اس کے بغیر یہ مشکل ہمارے لئے آسان نہیں ہوگی ۔ اب تک جو میں دیکھ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ بہت ہی کم ہیں جنہوں نے پوری سنجیدگی کے ساتھ اس طرف توجہ کی ہے۔ جماعتوں میں سے بھاری اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو جذبہ تو رکھتے ہیں لیکن ان کو ان کے نظام نے نہ تو باقاعدہ بچے کی طرح تربیت کرتے ہوئے اپنایا اور طریقہ سکھایا کہ کیسے تبلیغ کرنی ہے اور نہ ان میں یہ استعداد ہے کہ از خود وہ کر سکیں۔ پس بہت سے امکانی داعیان الی اللہ ایسے ہیں جو بن سکتے تھے لیکن نہیں بن سکے ۔اس سلسلہ میں میں انشاء اللہ آئندہ خطبہ میں امراء کو نصیحت کروں گا۔ انفرادی طور پر صیحتیں ہیں جو جماعت کے ہر فرد سے تعلق رکھتی ہیں لیکن بہت سے ایسے ہیں جو نصیحت سنتے ہیں۔ نصیحت پر عمل کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کر سکتے ان کے لئے مربی کی ضرورت ہوتی ہے اور مربیوں کے لئے پھر باقاعدہ ایک نظام کی ضرورت ہے۔ باقاعدہ نظام کے تابع ایسے مربی ہوں جو ان بندوں تک پہنچیں ان کی تربیت کریں۔