خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 355
خطبات طاہر جلد ۱۱ 355 خطبه جمعه ۵ ارمئی ۱۹۹۲ء یہ جو کیفیت ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ کشف اور الہام بھی مختلف نوعیت کے ہوا کرتے ہیں۔بعض کشوف مخالفانہ کشوف ہوتے ہیں اور بعض کشوف موافقانہ کشوف ہوتے ہیں۔نیک اور بد کی تمیز کشفوں اور الہاموں کی کیفیات سے بھی پتا چلتی ہیں۔پس ابو جہل کا یہ جو کشف ہے یہ اس کے مخالف کشف تھا، اس کی تائید میں کشف نہیں تھا اور آنحضور ﷺ کی تائید کا کشف تھا لیکن دکھایا اس کو گیا مگر یہ بات اس وقت ظاہر ہوئی جب خدا کی خاطر ایک بندے نے ہر قسم کی قربانی کا فیصلہ کر لیا اور بظاہر اپنی ہلاکت کے سامان اپنے ہاتھوں سے کئے۔ایک دشمن کے منہ میں چلے جانا ایسی ہی بات ہے جیسے شیر کی غار میں انسان داخل ہو جائے اور پھر بغیر کسی اور ساتھی کو لئے ، بغیر کسی محافظ کو لئے اُٹھ کر چل پڑتے ہیں لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس جذبہ کی قدر فرمائی اس لئے آپ کو بچایا۔پیس یہ ہے وہ عظیم حصہ جو حضرت رسول اکرم ﷺ کو ہر خلق میں عطا ہوا ہے اور آپ کو بھی ہر خلق میں سے کچھ نہ کچھ آنحضور ﷺ سے حصہ لینا ہو گا۔آنحضور نے تو ہر خلق میں سے حصہ عظیم لے لیا ہے لیکن جو حصے پیچھے چھوڑے ہیں وہ بھی اتنے ہیں کہ سارے مسلمانوں میں تقسیم ہو جائیں تب بھی ختم نہ ہوں اور جو حصے اپنائے ہیں اصل میں تو اپنانے والے وہی حصے ہیں۔خلق عظیم میں سے جو حصے آپ نے اپنائے ہیں ان کی طرف توجہ کرنی چاہئے میں نے ابھی یہ بات کی ہے کہ جو حصے چھوڑے ہیں وہی مسلمانوں میں تقسیم ہو جا ئیں تو ختم نہ ہوں۔یہ فقرہ ایسا ہے جو اکثر لوگوں کو سنتے ہی سمجھ نہیں آئے گا اس لئے کچھ وضاحت کرنی پڑے گی۔آنحضور ﷺ کے متعلق آتا ہے کہ آپ مکارم الاخلاق پر فائز کئے گئے تھے۔(سنن الکبری بہیقی جز اصفحہ: ۱۹۱) اخلاق کی بہت سی قسمیں ہیں۔کچھ چھوٹی چھوٹی قسمیں ہیں، کچھ بہت الله ہی اعلیٰ درجے کی قسمیں ہیں۔پس آنحضرت ﷺ کے متعلق جب یہ فرمایا کہ حصہ لیا ہے تو یہ شبہ پڑ سکتا ہے کہ بعض اخلاق چھوڑ دیتے ہیں بعض لے لئے ہیں۔اس کی وضاحت ضروری ہے یہ ہرگز مراد نہیں ہے۔مراد یہ ہے کہ بیچ میں سے وہ حصہ لیا جو سب سے زیادہ اعلیٰ درجے کا حصہ تھا اور اس کا اختیار کرنا سب سے زیادہ مشکل تھا۔حیاء میں سے وہ حصہ لیا جو سب سے زیادہ اعلیٰ پائے کا تھا اور جسے اختیار کرنا سب سے زیادہ مشکل تھا۔ایثار میں سے وہ حصہ لیا جو اس سے پہلے اور کسی اور کو نصیب نہیں ہوا تھا صبر میں سے وہ حصہ لیا جس کی کوئی اور مثال دنیا میں دکھائی نہیں دیتی تو حَظِّ عَظِيمٍ کہہ کر یہ نہیں فرمایا