خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 353
خطبات طاہر جلد ۱۱ 353 خطبه جمعه ۱۵ارمئی ۱۹۹۲ء ہیں اس قسم کے مد مقابل سے ہر انسان کو جو دعوت الی اللہ کرنے والا ہے زندگی کے مختلف حصوں میں واسطہ پڑتا ہی رہتا ہے فرمایا یا درکھو اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ احسن بات سے دفاع کرنا اور یہاں تو سینه کا لفظ نہیں لیکن دوسری آیات کریمہ میں سینہ کا ذکر ہے اور یہاں بعض باتیں عملاً چھوڑ دی گئی ہیں، اس سے مضمون میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔جب بھی تبلیغ کرنے نکلو اچھی بات تلاش کرو دلائل میں سے بھی بہترین چنو ، طرز بھی وہ اختیار کرو جو سب سے اچھی نظر آئے جس میں کشش پائی جائے اور جب بُرائی دیکھو تو اُسے حسن کے ذریعہ دور کرنے کی کوشش کریں۔یہ صفات اگر تم میں آجائیں تو پھر تم دشمن کو دوست میں بدلنے کی اہلیت حاصل کر لو گے اور فرمایا جو مومن صبر کرتے ہیں انہیں ضرور یہ صفات ملتی ہیں اور ان کے مقاصد پورے ہوتے ہیں لیکن ان تمام خوبیوں میں سے سب سے زیادہ شاندار حصہ اگر کسی کو ملا ہے تو وہ حمد مصطفی یا اللہ تھے وہ ذُو حَظِّ عَظِيمٍ تھے۔بدی کا جواب حسن سے دینے میں موزوں کلام کے لئے بہترین انتخاب کرنے کے لحاظ سے آپ سے بہتر دنیا میں کبھی کوئی پیدا نہیں ہوا۔آنحضرت ﷺ کی نصائح آپ احادیث میں پڑھیں، آپ کی طرز بیان کو دیکھیں دل عش عش کر اُٹھتا ہے۔چودہ سو سال سے اوپر گزر گئے کہ وہ باتیں کہی گئی تھیں مگر آج بھی زندہ ہیں، وہ سادہ سا کلام ایسی عجیب چمک اور ایسی شان رکھتا ہے کہ آنکھوں کو چندھیا دینے والا ہے۔ایسا جذب رکھتا ہے کہ دل بے ساختہ اس کی طرف کھچا چلا جاتا ہے۔پس یہ نصیحت ہو رہی ہے کہ جب تم تبلیغ کے میدان میں نکلو تو صبر کرو۔صبر کے بغیر تو گزارہ ہونا ہی نہیں مگر اس سے آگے قدم بڑھاؤ اور اس کی پیروی کرو جسے حَظِّ عَظِیمٍ عطا ہوا تھا۔جس کو تبلیغ کی ہرشان اپنے پورے عروج کے ساتھ عطا کی گئی تھی۔پس آنحضرت ﷺ کے اسوہ پر اگر چلنا ہے تو پہلی بات یہ یاد رکھیں کہ چھوٹے بڑے ہر قسم کے شخص سے تبلیغی رابطہ رکھنا ہے خواہ وہ بظاہر نرم مزاج کا ہو یا سخت مزاج کا ہو۔بڑے سے بڑا دشمن بھی ہو تو اس تک بھی بات پہنچانی ضروری ہے اور بغیر خوف کے اُسے بات پہنچانی ہے۔یہ بات یادرکھتے ہوئے اسے بات پہنچانی ہے کہ آنحضرت بڑے سے بڑے دشمن تک بھی حق بات پہنچاتے تھے اور بے خوف ہو کر پہنچاتے تھے۔ایک موقع پر ابو جہل جو آنحضور ﷺ کے معاندین میں چوٹی کا معاند مشہور ہے۔جب بھی آنحضور ﷺ کے دشمنوں کی بات کرتے ہیں تو ابو جہل کا نام سب سے پہلے ذہن میں اُبھرتا ہے اور دنیائے اسلام