خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 342
خطبات طاہر جلدا 342 خطبه جمعه ۵ ارمئی ۱۹۹۲ء ان آیات پر بھی میں نے جب بھی غور کیا ہمیشہ کچھ نہ کچھ نئی بات نظر آئی ، کوئی نہ کوئی نیا نکتہ ہاتھ آیا اس لئے میں نے آج دوبارہ اس مضمون کو چھیڑتے ہوئے ان آیات کا سہارا لیا ہے۔ قرآن کریم جہاں تبلیغ کا مضمون بیان کرتا ہے وہاں صبر کے مضمون کو ضرو کے مضمون کو ضرور ساتھ باندھتا ہے بھی براہ راست ا کبھی کبھی بالواسطہ لیکن تبلیغ اور صبر کو الگ الگ کر کے انفرادی طور پر ایک دوسرے سے جدا جدا گانہ شکل میں گانہ سے پیش نہیں کیا گیا لیکن ان آیات میں جس صبر کی طرف اشارہ ہے وہ ایک بہت بڑے چیلنج کے نتیجہ میں پیش آنے والا صبر ہے۔ عام حالات میں جب انسان کسی کو تبلیغ کرتا ہے تو طبعا ایک منفی رد عمل سامنے آتا ہے اور تبلیغ سنے والا یہ سمجھتا ہے کہ مجھے یہ بے وجہ اپنی طرف کھینچ رہا ہے مجھے شکار کرنا چاہتا ہے اور شکار کارد عمل خواہ وہ حیوانی شکار ہو، پرندوں کا ہو، چوپایوں کا ہو یا انسانوں کا ہو ایک ہی طرح کا ہوا کرتا ہے ۔ شکار اول طور پر شکاری سے بھاگتا ہے اس لئے شکار کے ساتھ صبر کا مضمون خود بخود وابستہ ہو جاتا ہے لیکن یہاں ایک اور بات بیان ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا شکار جو خود شکاری ہوں اور جودشمنی میں اپنی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں۔ اس مضمون پر غور کرتے ہوئے میرے سامنے جو باتیں ہیں ان پر میں تفصیل سے آپ کے ساتھ گفتگو کرنا چاہتا ہوں ۔ عام طور پر یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ موید ہو، نرم مزاج ہو اور جس میں شرنہ پایا جاتا ہو صرف اسی کو تبلیغ کرنی چاہئے ۔ جہاں تک تجربہ کا تعلق ہے یہ درست ہے کہ وہ لوگ جن میں سعادت پائی جاتی ہے جو ظاہری طور پر نرم مزاج رکھتے ہیں ان میں تبلیغ نسبتاً زیادہ فائدہ دیتی ہے لیکن اس کا کوئی قاعدہ کلیہ نہیں بنایا جا سکتا۔ بعض لوگ ایسے ہیں جن کی طبیعتوں میں نرمی پائی جاتی ہے اور مداہنت پائی جاتی ہے، ترقی اخلاق کی وجہ سے نہیں بلکہ منافقت کی وجہ سے پائی جاتی ہے اور ایسے لوگوں کے ساتھ جب احمدیوں کا تبلیغ کا واسطہ پڑتا ہے تو بعض دفعہ عمریں گزار دیتے ہیں لیکن ایک انچ بھی آگے نہیں آتے اور بیچارے بھولے بھالے احمدی سمجھتے ہیں کہ وہ بہت شریف آدمی ہے ۔ کبھی مخالفت نہیں کرتا ہمیشہ اچھی بات کرتا ہے مگر اپنی جگہ اسی طرح قائم جس طرح کہ پہلے تھا اور اس کے ساتھ تعلقات میں انسان اپنی عمر ضائع کر دیتا ہے۔ جہاں تک انسانی تعلقات کا معاملہ ہے، اس اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر شخص سے اچھا تعلق رکھنا چاہئے لیکن جب تبلیغ کی نیت سے تعلق رکھا جاتا ہے تو ایک مقصد پیش نظر ہوتا ہے مقصد یہ ہے کہ جس کو تبلیغ کی جائے وہ قریب تر آئے یہاں تک کہ وہ کلیہ