خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 341 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 341

خطبات طاہر جلد ۱۱ 341 خطبه جمعه ۱۵رمئی ۱۹۹۲ء اخلاق محمدی اپناتے ہوئے ہمت ،صبر سے دعوت الی اللہ کریں۔لیڈر صفات لوگوں کو دعوت الی اللہ کریں۔( خطبه جمعه فرموده ۱۵ مئی ۱۹۹۲ء بمقام احمد یہ مشن ہاؤس فرانس) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ کی تلاوت کی۔وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَ قَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيْئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيُّ حَمِيمٌ وَمَا يُلَقُهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقْهَا إِلَّا ذُو حَظِّ عَظِيمٍ (لم الجد ۳۳ (۳۶) © ۳۴۰ تا پھر فرمایا:۔قرآن کریم کی جو آیات میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں ان سے جماعت بہت حد تک متعارف ہو چکی ہے کیونکہ نمازوں میں بار ہا ان کی تلاوت کرتا ہوں اور بارہا خطبات میں اس مضمون کی طرف توجہ دلاتا رہتا ہوں۔جو ان آیات کریمہ میں بیان ہوا ہے یعنی دعوت الی اللہ کا مضمون۔قرآن کریم کی آیات میں یہ عظیم بات پائی جاتی ہے کہ باوجود اس کے کہ آپ اپنی طرف سے ایک مرتبہ ان آیات کے مضمون کو خود کھول کر بیان کر دیں لیکن پھر جب دوبارہ ان پر غور کرتے ہیں تو ضرور کوئی نئی چیز انہی آیات میں سے پھوٹتی ہے جن کی طرف پہلے توجہ نہیں گئی ہوتی اور جن سے بنی نوع انسان کے لئے مزید فائدے کے سامان ہوتے ہیں۔