خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 338 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 338

خطبات طاہر جلد ۱۱ 338 خطبه جمعه ۱۸ مئی ۱۹۹۲ء قوم ہلاک ہورہی ہے کہ تم شریعت نافذ نہیں کر رہے حالانکہ ان کو تو پتا ہی نہیں کہ چودہ سو سال پہلے سے شریعت نافذ ہوئی ہے۔اگر تو ان کو خبر ہی نہیں ہوئی اس بات کی اور اگر مسلمان شریعت پر عمل نہیں کر رہے ار محمد مصطفی اللہ کی شریعت پر عمل نہیں کر رہے تو ضیاء یا نواز شریف کی شریعت پر کیسے عمل کریں گے۔کیا یہ خدا سے بڑے لوگ ہیں؟ ان کو علم ہے کہ شریعت محمد مصطفی ملے پر خدا کی طرف سے نازل ہوئی تھی پھر بھی وہ عمل نہیں کر رہے اور یہ انتظار کر رہے ہیں کہ ضیاء یا نواز شریف کا قانون جاری ہو اور ہم پھر عمل شروع کریں تو اس شریعت پر عمل کرنے سے بہتر ہے کہ جہنم میں چلے جائیں کیونکہ جو شریعت خدا کی خاطر نہیں بلکہ بندے کی خاطر اطلاق پاتی ہے تو اس شریعت کی کوئی بھی حقیقت نہیں وہ تو شرک ہے۔پس یہ بیوقوفی کی حد ہے۔اس قوم کو اگر بچنا ہے تو وہی نسخہ استعمال کرنا ہوگا جو قرآن کریم میں بیان فرمایا گیا ہے۔وہاں نفاذ شریعت کا کوئی حکومت کے تعلق میں ذکر نہیں ملتا۔نفاذ شریعت کا بندوں ،انسانوں سے تعلق میں ذکر ملتا ہے۔فرمایا لوگ مصلح ہو جائیں گے۔اپنی اصلاح کریں گے، دوسروں کی اصلاح کریں گے۔تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ وہ بچائے جائیں گے۔یہ مشکل ہے جو ہمیں در پیش ہے اور اب تک ہم جو کوشش کر چکے ہیں ان کا کوئی نتیجہ ظاہر نہیں ہورہا اور بعض دفعہ احمدی مایوس ہور ہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس قوم کے ہلاک ہونے کا وقت آ گیا، پکڑے جانے کا وقت آ گیا۔یہ ساری صورت حال سمجھا کر میں آپ کو دعا کی طرف متوجہ کرتا ہوں یقین رکھیں کہ جو کچھ ہمیں نظر آ رہا ہے ہم عالم الغیب نہیں، بنیادی طور پر حضرت محمد مصطفی ﷺ کی امت میں بہت سی خوبیاں مضمر ہیں ، بہت فطری نیکیاں ان میں چھپی ہوئی ہیں۔ذرا اس مٹی کو نم کرنے کی ضرورت ہے، سوز و گداز پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور وہ آپ کی آنکھوں کے پانی سے نم ہے، آپ کا سوز و گداز ہے امت محمدیہ کے ان کے غافلوں کے دلوں میں منتقل ہوگا اور ان کے اندر زندگی کی گرمائی پیدا کر دے گا۔پس دعائیں کریں اور دعاؤں سے غافل نہ ہوں اور اپنے عمل کو جاری رکھیں جو کوششیں ہیں ان سے باز نہ آئیں اور یاد رکھیں کہ دشمن اپنی کوششیں کرتا چلا جائے گا۔آپ کو بھی یہی حکم ہے کہ آپ نے لازماً ان کوششوں پر ثبات دکھانا ہے ، مضبوطی سے قائم ہونا ہے اور پھر وہ دعائیں کریں جو دعائیں حضرت محمد رسول اللہ اللہ نے کیں اور اس انداز سے دعائیں کریں جس انداز سے حضرت اقدس محمد مصطفی میں ہو نے دعائیں کیں۔پھر آپ کو یہ حق ہے کہ ان سے کہیں تم بھی انتظار کرو، ہم بھی