خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 336
خطبات طاہر جلد ۱۱ 336 خطبه جمعه ۱۸ مئی ۱۹۹۲ء ہوا ہے کہ جس طرح تیرا غم دعا ئیں بن کر ابد تک ان کیلئے رحمتیں چھوڑ گیا ہے اسی طرح اے میرے خدا تو اس اپنے پیارے بندے کیلئے ہمیشہ ہمیش کے لئے اسی غم اور اسی دکھ اور اس کی پیشگی کے جاری ہونے کی نسبت سے ہمیشہ اس پر رحمتیں فرماتا جا۔تو آپ کی دعا ئیں آج بھی جاری ہیں ان دعاؤں میں اپنی دعائیں شامل کر دیں تو ان دعاؤں کا فیض آپ کی دعاؤں کو ملے گا، ان میں ایک نئی طاقت پیدا ہوگی ،ان میں حیرت انگیز معجزے دکھانے کی شان پیدا ہو جائے گی ، ان کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی۔پس دعاؤں سے غافل نہ ہوں اور امید رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ضرور دعاؤں کے نتیجے میں قوموں کی تقدیریں بدل دیا کرتا ہے، وہ اسباب پیدا کر دیا کرتا ہے۔وہ اسباب قوموں کے حالات بدلنے کے موجب ہوتے ہیں۔اس پہلو سے اب واپس پاکستان کی طرف چل کر دیکھتے ہیں۔خصوصیت کے ساتھ اس وقت میرے سامنے پاکستان اور ہندوستان کے مسلمان ہیں۔دن بدن ان کے حالات بگڑ رہے ہیں۔اگر یہ دعا کی غیر معمولی تقدیر ان کو بچانے کیلئے آسمان سے نہ اتری اور اس پہلو سے الامر کا صلى الله خدا کی طرف لوٹا اور پھر زمین پر نازل ہونا یونہی بیان کیا جاسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی دعا امرالہی بن کر آسمان پر اٹھیں اور امرالہی بن کر نازل ہوئیں ہیں۔خدا کے اذن اور اس کی توفیق سے آپ کو دعا کی تو فیق ملی اس میں ایک ایسی غیر معمولی قوت پیدا ہوئی کہ وہ آسمان تک رفع کرگئی اور پھر آسمان سے وہ الامر نازل ہوا جس نے زمین کی تقدیر بدلی ہے۔اس پہلو سے جب ہم پاکستان کے اور ہندوستان کے مسلمانوں کے خصوصیت سے حالات دیکھتے ہیں اور اسی طرح باقی دنیا کے مسلمانوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک تکلیف دہ بات جو دکھائی دیتی ہے کہ قرآن کریم کا بیان کردہ اصل وہ بالکل بھلا چکے ہیں کہ جب تک لوگ صالح نہ ہوں اس وقت تک ان قوموں کو ہلاکت سے بچایا نہیں جاسکتا۔سارے عالم اسلام میں معلوم ہوتا ہے یہ اطلاع ہی نہیں ملی کہ قرآن کریم میں یہ نسخہ بیان فرمایا ہے۔ایک نیا نسخہ بنارہے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب تک شریعت کا قانون نازل نہ کیا جائے اس وقت تک قو میں بچ نہیں سکتیں۔اب پاکستان میں دن بدن حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جارہے ہیں۔بداخلاقی اپنے درجہ کمال تک پہنچ چکی ہے، بے حیائی ظلم ، سفا کی ، ڈا کے معصوم بچوں کو اس وجہ سے قتل کر دینا کہ وہ پیسے نہ دئے گئے ان کے بدلے غریب ماں باپ پر اتنے بڑے بڑے تاوان ڈالے جاتے ہیں کہ ان