خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 334
خطبات طاہر جلد ۱۱ 334 خطبه جمعه ۱۸ مئی ۱۹۹۲ء کا اور کوئی نسخہ بیان نہیں ہوسکتا۔آگے فرماتے ہیں۔۔۔۔اور میں اپنے ذاتی تجربے سے بھی دیکھ رہا ہوں کہ دعاؤں کی تاثیر آب و آتش کی تاثیر سے بڑھ کر ہے بلکہ اسباب طبیعہ کے سلسلہ میں کوئی چیز ایسی عظیم التاثیر نہیں جیسی کہ دعا ہے۔( برکات الدعا، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 11) وہ داعی الی اللہ جو یہ کہتے ہیں ہم نے کوشش کو بھی انتہا تک پہنچا دیا اور دعا کوبھی بوجوہ کمال تک پہنچا دیا لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ان کو میں سمجھا تا ہوں کہ ان کے نفس کا دھوکہ ہے۔جب کوشش درجہ کمال کو پہنچادی جائے اور مایوس ہوئے بغیر تو کل کے ساتھ اور صبر کے ساتھ خدا کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے اور راتوں کو اٹھ کر ان لوگوں کیلئے دعا کی جائے جن کو بچانے کیلئے آپ کوشاں ہیں تو یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ دعائیں نا مقبول ہوں۔وہ لازماً کارگر ہوں گی مگر اگر وہ مقبول نہیں ہوتی آپ دعائیں کرتے ہیں تو ان میں کوئی نقص ہے ایک ایسا نقص ہے جس کو میں نے محسوس کیا ہے اور میں متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔عموماً یہ دعا کرنے والے جب دعا کرتے ہیں تو بڑی سخت گھبراہٹ میں گڑ گڑاہٹ میں یہ کہتے ہیں کہ اللہ میرے وعدے کا وقت آ گیا، میرا وعدہ جھوٹا نکلے گا میں کیا کروں گا، میں نے تو سوکا وعدہ کیا تھا ایک بھی نہیں بن رہا۔اپنے حوالے سے دعائیں کر رہے ہوتے ہیں اور حضرت محمد مصطفیٰ کی دعاؤں کی قبولیت کا راز یہ نہیں بتایا گیا کہ آپ یہ فرماتے تھے کہ اے اللہ میں کیا کروں گا، میں کن لوگوں میں شمار ہوں گا اگر میری قوم ہلاک ہوگئی تو مجھے شرمندگی ہوگی ہرگز نہیں فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ تجزیہ فرمایا ہے کہ آپ کو ان لوگوں کا بے حد غم تھا، ان کی ہلاکت کا فکر تھا جو آپ کو دامن گیر تھا ان کیلئے آپ کی جان ہلاک ہو رہی ہوتی تھی۔اس قدر گہرا تعلق تھا بنی نوع انسان سے ایسی سچی ہمدردی تھی ان سے کہ ان کیلئے آپ راتوں کو اٹھ کر ان کی بھلائی کیلئے رویا کرتے تھے۔اپنے حوالے سے دعائیں نہیں کیا کرتے تھے بلکہ یہ عرض کیا کرتے تھے کہ میں ان کے غم میں ہلاک ہوا جارہا ہوں اور اس مضمون کو قرآن کریم میں دوسری جگہ بڑی شان اور وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا۔یہی طرز دعا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تھی۔فرماتے ہیں۔شور کیسا ہے تیرے کوچہ میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا (درثمین صفحہ : ۱۰)