خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 328
خطبات طاہر جلد ۱۱ 328 خطبه جمعه ۸ مئی ۱۹۹۲ء احمدیوں کے گھر جلائے جائیں گے، ان پر مظالم کئے جائیں گے، ان کو جیلوں میں ٹھونسا جائے گا اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہوگا۔اس وقت ان کی قربانیوں کے نتیجے میں دلوں میں اندر ہی اندر تبدیلیاں پیدا ہورہی ہوں گی اور بظاہر وہ دکھائی نہیں دیں گی لیکن دل بالآخر قوم کے اندر پیدا ہونے والے رد عمل ایک بم کے دھماکے کی طرح پھٹیں گے اور اسی قوم میں سے احمدیوں کے فدائی ، شیدائی، ان سے محبت کرنے والے اور احمدیت کی خاطر قربانیاں کرنے والے پیدا ہوں گے۔یہ وہی مضمون ہے جو قرآن کریم کی ان آیات میں بیان ہوا اور مختلف آیات میں مختلف رنگ میں بیان فرمایا گیا ہے۔پس داعین الی اللہ کے لئے ان آیات میں بہت گہری نصیحت ہے۔فرمایا کہ ٹھیک ہے بعض تو میں ضد کر بیٹھتی ہیں اور اڑ جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر بھی یہی ہے کہ جو ضد کر بیٹھے گا اس کو ز بر دستی تبدیل نہیں کرے گا مگر یہ کہنا کہ انسانی فتویٰ کہ فلاں قوم ضد کر کے اس مقام تک پہنچ گئی ہے کہ اس پر حجت تمام ہو گئی ہے، یہ انسان کا کام نہیں ہے۔حقیقی فتویٰ اللہ دے سکتا ہے۔اس لئے انسان کا کام یہ ہے کہ ایسے مایوس کن حالات دیکھتے ہوئے بھی مایوس نہ ہو۔دشمن ہر وقت تمہارے مٹانے کی کوشش کر رہا ہے نکما تو نہیں بیٹھا ہوا ہے۔تم کس طرح ہاتھ چھوڑ کر بیٹھ جاؤ گے۔یہ بچیں یا نا بچیں اس سے قطع نظر تمہیں اس کام کولاز ما جاری رکھنا ہو گا۔جو تمہارے سپردکیا گیا ہے اور ان سے کہ دو کہ ٹھیک ہے تم بھی جو کر سکتے ہو کرتے چلے جاؤ جو ہمارے بس میں ہے ہم ضرور کرتے چلے جائیں گے۔پھر ان سے کہو کہ انتظار کرو کیونکہ اس لڑائی کا فیصلہ زمین پر نہیں بلکہ آسمان پر ہونا ہے۔تم بھی انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں اور اس کی حکمت یہ بیان فرمائی وَلِلهِ غَيْبُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ غیب تو الله کے پاس ہے تمہیں کیا پتا کہ غیب کی کیا باتیں ہیں۔غیب سے منصہ شہود میں کیا کیا چیز میں ابھرنے والی ہیں کہ ساری ایسی باتیں ہیں جن کا خدا تعالیٰ کے علم غیب سے تعلق ہے بندے سے تعلق نہیں۔پھر فرمایا وَ اِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّه اسی کی طرف ہر امر بالآخر لٹایا جاتا ہے۔امر کے لٹائے جانے کے متعلق قرآن کریم میں بکثرت آیات موجود ہیں لیکن امر کے خدا کی طرف لٹائے جانے کا ایک مطلب ہے قضاء قدر کی تقدیر کا ظاہر ہو جانا۔آسمان پر جو فیصلے ہیں ان کا زمین پر نازل ہونا یعنی فیصلوں کے متعلق آخری اختیار بندوں سے کھینچ لیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع پا کر جاتا ہے۔پھر آسمان سے ایک تقدیر بنائی جاتی ہے اور وہ تقدیر زمین پر نازل ہوتی ہے اور اس کے نتیجے