خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 327
خطبات طاہر جلد ۱۱ 327 خطبه جمعه ۱۸ مئی ۱۹۹۲ء یہاں الذكری سے مراد خصوصیت سے حضرت محمد مصفیہ کی زبان سے جاری ہونے والا الذكرى ہے اور یہ خوشخبری تھی کہ تیری نصیحت رائیگاں جانے والی چیز ہی نہیں ہے۔یہ یقین رکھ اور مسلسل نصیحت کرتا چلا جا۔تو وہی مضمون اس رنگ میں بیان ہوا ہے جو کہتے ہیں کہ ہم نے ہرگز ایمان نہیں لانا جو اپنے اعمال سے ہی نہیں بلکہ زبان سے بھی کہتے ہیں ہم ایمان لانے والے نہیں ہیں۔لَا يُؤْمِنُونَ ہرگز ہی ایمان نہیں لائیں گے۔ان سے کہہ دے اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ تم اپنی جگہ کام کرتے چلے جاؤ اِنَّا عَمِلُونَ ہم بھی ضرور یہ کام کریں گے اور ہمارا جوفریضہ تبلیغ فرمایا گیا ہے اس سے کبھی کوتاہی نہیں کریں گے لیکن اس کے باوجود اس سے تقدیر نہیں بدل سکتی فرمایا وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ کسی اور چیز کی ہم خواہاں ہیں تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرنے والے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسا واقعہ ہونے والا ہے، کوئی ایسی بات نازل ہونے والی ہے جس کے نتیجہ میں حالات میں تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اس وقت جو دکھائی دے رہا ہے وہ تو یہ ہے کہ یہ لوگ انکار کر بیٹھے ہیں اور بچائے نہیں جاسکتے لیکن پردہ غیب میں جو کچھ چھپا ہوا ہے وہ خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔اس لئے بھی اپنے عمل کو جاری رکھنا ضروری ہے کیونکہ بہت سی ایسی باتیں ہیں جو حال میں ہوتے ہوئے بھی پردہ غیب میں ہوتی ہیں اور جو مستقبل سے تعلق رکھنے والی غیب کی باتیں ہیں وہ بہر حال انسان سے اوجھل ہی رہتی ہیں۔فرمایا تمہاری نظر میں یہ ہلاک شدہ ہیں لیکن ان کے اندر کچھ واقعات، کچھ تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ان کے دلوں میں کچھ تحریکات چل رہی ہیں اور ان پر تمہاری نظر نہیں ہوسکتی ان پر اللہ تعالیٰ کی نظر ہوسکتی ہیں۔فرمایا اس لئے غیب کا علم سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا۔نہ تمہیں حال کا علم ہے نہ تمہیں مستقبل کا علم ہے تم ظاہر پر فتوے لگاتے ہو لیکن قوموں میں جو تبدیلی آیا کرتی ہیں بعض دفعہ مخفی تبدیلیاں آنی شروع ہو جاتی ہیں اور تمہیں ان کا اندازہ نہیں ہوتا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اس قوم سے متعلق جس کے آپ اولین مخاطب تھے یعنی ہندوستان کے باشندگان جو بعد میں ہندو پاکستان کے باشندگان میں تبدیل ہوئے ان کے متعلق فرمایا کہ را ئیں تبدیل کر دی جائیں گی، نیا آسمان بنے گا نئی زمینیں بنیں گی اور آراء کی تبدیلی کے متعلق حضرت مصلح موعودؓ نے سورۃ البروج کی تفسیر میں یہ لکھا کہ ایسا وقت جب آئے گا جب