خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 326
خطبات طاہر جلدا 326 خطبه جمعه ۱۸ مئی ۱۹۹۲ء پر ظلم کرتی ہیں وہ ہلاک کر دی جاتی ہیں۔اگلا مضمون اسی سے تعلق رکھتا ہے اور اسی بات کی تشریح ہے اسی معمہ کا حل ہے کہ یہ قوم پھر کیوں بچائے جائے گی۔فرماتا ہے وَقُلْ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عُمِلُونَ تم نے دلائل کے ذریعے پیغام پہنچانے میں انتہا کر دی ،نرمی اور محبت اور خلوص کے ساتھ ان کے دل جیتنے کے لئے جتنی کوشش ہو سکتی تھی وہ سب کوشش کر بیٹھے، اب تم ان سے کہہ دو کہ تم جو کر سکتے ہو کرتے چلے جاؤ لیکن ہماری کوششوں کو انتہا تک پہنچانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم کوششیں چھوڑ دیں گے۔ہم جانتے ہیں کہ تم ضد کر بیٹھے ہو، جانتے ہیں کہ تم اس عمل سے باز آنے والے دکھائی نہیں دیتے جس عمل پر تم بڑی شدت کے ساتھ قائم ہوئے ہو لیکن ہم بھی نیکیوں کے معاملے میں اور نصیحت کے معاملے میں تم سے کم صبر دکھانے والے نہیں ثابت ہوں گے۔إِنَّا عُمِلُونَ ہم بھی وہ کرتے چلے جائیں گے جو کچھ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں پیدا فرمایا ہے۔اس میں آج کل بھی دا عین الی اللہ کیلئے بہت بڑی نصیحت ہے اور بہت بڑا پیغام ہے۔وہ پیغام یہ ہے کہ اگر کوئی قوم اپنے اخلاق سے بظاہر ہلاک ہونے کے لائق دکھائے دی جائے ،اگر کوئی قوم اپنے ضد اور تعصب اور مظالم کے نتیجے میں یوں محسوس ہو کہ اب ان کی ہلاکت لکھی جاچکی ہے اور ان کو کوئی بچا نہیں سکتا اور گزشتہ قوموں میں جو تباہی کے آثار ظاہر ہوا کرتے تھے اور جن کے نتیجے میں وہ تباہ کر دی جاتی تھیں وہ سارے آثاران میں پیدا ہو چکے ہیں۔اس کے باوجود کام چھوڑنے کا وقت نہیں ہے۔یہ کہہ کر ان سے الگ ہو جانے کی اجازت نہیں ہے کہ ہم تو تمہیں ہلاک شدہ دیکھتے ہیں اس لئے تم جاؤ اپنا کام کرو ہم اب کوشش چھوڑ بیٹھیں گے اور مزید تمہیں پیغام نہیں دیں گے۔پہلا سبق یہ دیا گیا ہے اس صورتحال میں کہ عمل نہیں چھوڑ نا اگر دشمن اپنا عمل نہیں چھوڑتا تو مومن کو ہر گز زیبا نہیں ہے کہ وہ اپنا عمل چھوڑ بیٹھے۔اس لئے سنے یا نہ سنے تم نے پیغام دیتے چلے جانا ہے، دیتے چلے جانا ہے اور دیتے چلے جانا ہے۔یہ وہی مضمون ہے فَذَكِّرُ اِنْ نَّفَعَتِ الذكرى ( الاعلی: ۱۰) اے محمد مصطفی یہ تو نصیحت کرتا چلا جا اور کرتا چلا جا اور کرتا چلا جا اور یہ یقین رکھ کہ تیری نصیحت بالآخر رائیگاں جانے والی نہیں اِن نَفَعَتِ الذِّكْرَى - الذِّكْرُى میں بالعموم بھی نصیحت اور پرانے ایام کی یادوں کو تازہ کر کے لوگوں کو ڈرانے کا مضمون ہے لیکن میرے نزدیک