خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 319
خطبات طاہر جلد ۱۱ 319 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۹۲ء حدیث آپ نے بار ہاسنی ہے کتنی عظیم اور حیرت انگیز لطیف مضمون پر مشتمل ہے۔فرمایا اللہ تعالی اس کے حق میں فیصلہ کرے گا اور خواہ اس کی موت بدوں کے شہر کے قریب ہو خدا ایسا انتظام کرے گا کہ جب فرشتے فاصلہ نا ہیں ( یہ ایک تمثیل ہے ) تو وہ فاصلہ جو نیکوں کے شہر کی طرف ہے چھوٹا کر دیا جائے گا اور جو بدوں کے شہر کی طرف ہے اُسے لمبا کر دیا جائے گا تا کہ اس شخص کی موت نیکی کے قریب شمار ہو۔یہ رحم کا مضمون ہے اور کوشش میں جان دینا یہ انصاف کا مضمون ہے۔تو انصاف کا رحم کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے اس لئے میں نے آپ کو کہا کہ منصف بنیں گے تو مصلح بنیں گے اور منصف بنیں گے تو رحم کے لائق قرار دیئے جائیں گے۔اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ آگے بڑھا کر اور کھول کر اس کا تعلق رحم سے باندھتا ہے تو آپ مصلح بنیں اور مصلح بننے کی کوشش میں اگر جان جاتی ہے تو کسی خوف کی ضرورت نہیں۔اللہ بہت رحم کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ کا اعلیٰ انصاف آپ کے لئے رحم میں تبدیل ہو جائے گا لیکن آپ کے متعلق خدا تعالیٰ نے یہ بھی ایک خبر دی ہے کہ کوشش فرض ہے اس کا نتیجہ نکلنا آپ کے اختیار میں نہیں ہے کیونکہ نتیجہ نکلنے کا ایک تعلق تو اللہ تعالیٰ سے ہے اور ایک تعلق لوگوں سے ہے اور خدا کے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ سابق میں جن لوگوں نے کبھی بھی انکار پر ضد کی ہے ان کی زبر دستی اصلاح نہیں کی اس لئے کوششیں خواہ کتنی ہی مخلصانہ کیوں نہ ہوں، کتنی ہی زیادہ دعا ئیں اس کے ساتھ کیوں نہ ہوں لَا يَنالُ عَهْدِى الظَّلِمِينَ (البقرہ: ۱۲۵) کا مضمون ہمیشہ غالب رہتا ہے۔وہ لوگ جو اپنی بات پر مصر ہوں ان کی تقدیر نہ کسی کی دُعاؤں سے بدلتی ہے نہ اصلاحی کوششوں سے۔تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لوشاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَاحِدَةً اگر اللہ تعالیٰ چاہتا ، اُسے اختیار ہے۔قدرت ہے تو تمام بنی نوع انسان کو نیکی پر اکٹھا کر دیتا اور ایک جان بنادیتا، ایک امت بنا دیتا۔وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے کیوں؟ اس لئے کہ خدا تعالیٰ زبر دستی کسی کی اصلاح نہیں کرتا اور ٹیڑھے لوگ پھر اپنی بھی پر مصر ہو جایا کرتے ہیں تو مصلحین بظاہر نا کام ہوتے ہیں لیکن جن معنوں میں اب میں نے تفصیل بیان کی ہے فی الحقیقت وہ نا کام نہیں ہوا کرتے کیونکہ پھر وہ زمین کے وارث بنائے جاتے ہیں۔لَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ سوائے ان کے جن پر اللہ رحم فرمائے۔یہاں وہی مُصْلِحُونَ مراد ہیں جن کے