خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 318
خطبات طاہر جلد ۱۱ 318 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۹۲ء ہو گا لیکن وہ صفات اپنے اندر پیدا کرنی ہوں گی جن کا میں نے ذکر کیا ہے اور قرآن کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یاد رکھیں کہ مُصْلِحُونَ اپنے زور سے اصلاح نہیں کر سکتے۔اور اصلاح میں نا کام بھی رہیں تب بھی وہی جیتے ہیں اور مُصْلِحُونَ اس لئے کامیاب قرار نہیں دیئے جاتے کہ ان کے اندر حقیقہ اصلاح کی صلاحیتیں پوری طرح پیدا ہو چکی ہوتی ہیں۔مُصْلِحُونَ تو بعض دفعہ خود اپنی اصلاح بھی نہیں کر سکتے کہ ان کی موت کا حکم آجاتا ہے اور وہ خدا کے حضور حاضر ہو جاتے ہیں۔ان کی بخشش کا تعلق رحم سے ہے ان کی بخشش کا تعلق اصلاح میں کامیابی سے نہیں ہے۔چنانچہ وہ قو میں جو اصلاح میں مصروف ہوں اگر اس حالت میں مریں کہ خود ان کے اندر برائیاں موجود رہیں تو ان کو بھی خدا تعالیٰ بخش دیتا ہے اور رحم کے نتیجہ میں بخشتا ہے اور اس میں ایک انصاف بھی پایا جاتا ہے۔انصاف یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے دستور بنالیا ہے کہ جولوگ نیکی کی کوشش شروع کر دیں اگر نیکی میں کامیاب ہونے سے پہلے مارے جائیں گے تو میں انہیں بخشوں گا۔رحم سے یقینا تعلق ہے لیکن ایک بہت باریک اور پاکیزہ انصاف سے بھی اس کا تعلق ہے کیونکہ عمر کا فیصلہ کرنا اللہ کے اختیار میں ہے۔ایسا شخص جو نیکی کی کوشش شروع کر دیتا ہے اگر وہ مر جاتا ہے تو نہایت لطیف انصاف کی رو سے اگر دیکھا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے کہہ سکتا ہے کہ مجھے یہ نہیں پتا کہ آخری نتیجہ کیا نکلتا تھا لیکن تو جانتا ہے کہ جب میں مرا ہوں تو اندرونی طور پر بھی اور بیرونی طور پر بھی اصلاح کی کوشش کر رہا تھا اس لئے خدا تعالیٰ کے نہایت اعلیٰ اور لطیف انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس پر رحم فرمائے اور اس کے اندھیرے مستقبل کا سوال نہ اُٹھائے وہ جانتا ہے کہ اگر وہ زندہ رہتا تو کیا بن جاتا لیکن جس حالت پر موت دی ہے اس حالت کو مستقبل میں لمبا کر دے۔یہی وہ مضمون ہے جس کو حضور اکرم ﷺ نے اس مثال میں بیان فرمایا کہ ایک بد ،بد شہر سے ہجرت کر کے نیکوں کے شہر کی طرف اس نیت سے روانہ ہوا تھا کہ ان کی صحبت میں رہ کر اسکی اصلاح ہو جائے۔ساری بدیاں اس کے جسم کے ساتھ چمٹی ہوئی تھیں رستے میں اُس کو موت آجاتی ہے اور مرتا اس حالت میں ہے کہ زمین پر گھسٹتا ہوا ( آنحضور ﷺ نے یہ نقشہ کھینچا ہے ) کہنیوں کے بل گھٹنوں کے بل کوشش کر رہا ہے کہ کسی طرح میں اس شہر کے قریب ہو کر جان دوں۔(مسلم کتاب التو بہ حدیث نمبر : ۴۹۲۷) وہ