خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 317
خطبات طاہر جلد ۱۱ 317 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۹۲ء طرح مجھے دیکھ رہا تھا جیسے عجیب بے وقوفوں والی باتیں کر رہے ہیں کہ جی ! ہم دنیا کے آئندہ مالک ہیں ہم دنیا کا مستقبل ہیں۔میں نے کہا تمہیں بات سمجھ نہیں آئے گی تم عیسائی ہو تم پہلے حضرت عیسی کے زمانے میں واپس جاؤ وہاں جا کر دیکھو کہ حضرت عیسی کا دعوی ہمارے دعوئی کے مقابل پر کتنا مضحکہ خیز دکھائی دیتا تھا۔ہم نے تو ایک سو سال میں اتنی عظیم الشان ترقی کی ہے کہ ۲۶ ممالک میں پھیل گئے ہیں۔عیسائیت کا ایک سو سال کے بعد کیا حال تھا۔واپس مڑو۔وہاں جا کر دیکھو اور پھر غور کرو اور پھر بیشک اُس زمانہ میں تمسخر آمیز مضامین لکھو کہ یہ پاگل، ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اپنے ملک سے نکالے گئے کسی ملک میں بھی ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ، کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے، کوئی معاشرتی اور علمی حیثیت نہیں ہے کوئی اقتصادی حیثیت نہیں ہے بالکل معمولی معمولی تعداد میں چند جماعتیں ہیں اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ دنیا کے وارث بنائے جائیں گے۔میں نے کہا کہ واپس جاؤ اور وہاں بیٹھ کر پھر دوبارہ یہ مضمون لکھو کہ عیسائی کتنے بے وقوف لوگ ہیں پہلے سو سال کے اندر جب کوئی رومن بادشاہ چاہتا تھا ان کو اپنے گھروں کے اندر زندہ جلا دیا کرتا تھا اور جب چاہتا تھا ان کو پکڑ کر عدالتوں میں پیش کرتا تھا اور پھر عدالتوں سے یہ فیصلے ہوتے تھے کہ جانوروں کے سامنے ان کو پھینکا جائے اور بھوکے جانوران کو پھاڑ کھائیں۔ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کریں ، بھنبھوڑیں اور ساری دنیا جو تما شا دیکھنے والی ہو وہ ہنسے اور مذاق اُڑائے یہ ان کی طاقت تھی۔میں نے کہا اس وقت پر مضمون لکھو کہ یہ پاگل کے بچے، ان کی حیثیت کیا ہے۔جانوروں کو زندہ کھلائے جاتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ یہ ساری دنیا کے وارث بنائے جائیں گے اور آج واپس آکر پھر دیکھو تو دنیا کی کونسی طاقت ہے جہاں یہ وارث نہیں بنائے گئے۔یہ قرآن کریم کی سچائی کا اعلان ہے اور تاریخ کا ایک مختلف منظر ہے جس کو قرآن کریم نے ایک خاص زاویے سے پیش فرمایا ہے اور اس کا تعلق اصلاح سے ہے۔پس آپ مُصْلِحُونَ ہو جائیں اور وراثت کا معاملہ خدا پر چھوڑ دیں، اس خدا پر چھوڑ دیں وہ خدا جس نے ہمیشہ مُصْلِحُونَ کو وارث بنایا ہے اور بنا تا چلا آیا ہے اور کبھی اس میں فرق نہیں کیا صلى الله وہ ضرور آپ کو اس زمین کا وارث بنائے گا اور اس لئے بھی وارث بنائے گا کہ حضرت محمد مصطفی احتی سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ لازما اسلام کو آخر اس تمام زمین کا وارث بنایا جائے گا۔آپ کے طفیل ایسا