خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 307
خطبات طاہر جلد ۱۱ 307 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۹۲ء مناجات کرنا بالکل بے فائدہ اور ناحق ہے۔پس جہاں جہاں مُصْلِحُونَ کا ذکر ہے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ساری بستی اگر اصلاح کرنے والی ہو تو اس کو اللہ ہلاک نہیں کرتا لیکن ہرگز یہ مراد نہیں ہے۔بستی میں جو اہلیت رکھنے والے لوگ ہیں (اہل سے مراد باشندے ہیں مگر اہل کا ایک اور معنی بھی ہے کہ جو اہل کہلانے کے مستحق ہیں) وہ گنتی کے چند افراد ہوں وہ اگر کوشش میں مصروف ہوں اور ان کی اتنی تعداد ہو کہ اس نتیجہ میں قوم کی زندگی کے امکانات پیدا ہو جا ئیں تو جب تک ان کی کوشش کا نتیجہ نہیں نکلتا اس وقت تک اللہ تعالیٰ ان کو موقع دیتا چلا جاتا ہے اور اس حالت میں قوم کو ہلاک نہیں کرتا کہ مُصْلِحُونَ اپنی کوششوں میں مصروف ہوں۔پس اس آیت کو آپ دوبارہ دیکھیں تو آپ کو پتا لگے گا کہ وَاَهْلُهَا مُصْلِحُونَ میں اصلاح کی ایک جاری کوشش کا ذکر ہے ، وہ اصلاح میں مصروف لوگ ہیں جو اپنے کام میں لگے چلے جاتے ہیں اور حتی المقدور کوشش کرتے چلے جاتے ہیں جب تک ان کو پورا موقع عطا نہیں کر دیا جاتا جب تک ان کی کوششوں کا آخری نتیجہ نہیں نکلتا اس وقت تک قوم کو ہلاک نہیں کیا جاتا۔آخری نتیجہ نکلنے کی دوصورتیں ہیں ایک تو یہ ہے کہ ان کی اصلاح کے نتیجہ میں کچھ لوگ اصلاح کے اثر کے نیچے اپنے آپ کو درست کرنے لگ جاتے ہیں ، ان کے اعمال اچھے ہو جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فرمان کی اطاعت شروع کر دیتے ہیں خواہ جزوی ہو خواہ کلی ہو نیکی کی بات کا نیک ردعمل دکھانا یہ نتیجہ ہے۔ضروری نہیں کہ وہ فوری طور پر ایمان لے آئیں ایمان لانے کا مسئلہ بعض دفعہ دیر میں طے ہوتا ہے۔اگر اصلاح کی طرف کوئی توجہ شروع کر دے تو بالآخر از ماوہ ایمان پر منتج ہوتا ہے۔ایسا شخص جو نیک باتوں کا مثبت جواب دینے لگتا ہے ، شرافت کے ساتھ اور تقویٰ کے ساتھ نیک نصیحت کو قبول کرتا ہے وہ بالآخر ایمان دار بن جاتا ہے اور اس کا انجام نیکوں کے ساتھ ہوتا ہے اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار (در مشین : ۱۳۷) جس کے اندر نیکی کے آثار ہوں اس نے لازماً یہیں آ کر مرنا ہے، اس کو خدا تعالیٰ ضائع نہیں فرمائے گا۔پس وہ قومیں جن میں خرابیاں کثرت سے پھیل رہی ہوں اگر ان میں مصلحین پیدا ہو جائیں اور ان کی کوششوں کا نیک اثر ظاہر ہونا شروع ہو جائے تو ان قوموں کی آزمائش کو خدا تعالیٰ ان