خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 26 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 26

خطبات طاہر جلد ۱۱ 26 26 خطبہ جمعہ ۱۷؍جنوری ۱۹۹۲ء قادیان کے بوڑھوں، مردوں، عورتوں، بچوں نے تو اپنی طاقت کی آخری حدوں کو چھو لیا۔جس حد تک ان کے لئے ممکن تھا انہوں نے خدمت کی لیکن باہر سے جانے والوں نے بھی ماشاء اللہ ان کے کام کو آسان کرنے میں بھر پور حصہ لیا ہے۔انگلستان کی جماعت کو بھی خدا نے توفیق بخشی۔بہت ہی مستعد کارکن یہاں سے گئے ہیں اور مسلسل ان تھک رنگ میں انہوں نے خدمت کی ہے۔اسی طرح پاکستان سے کثرت کے ساتھ شامل ہونے والوں میں سے ایک بڑی تعداد کو بہت عمدہ اور قابل قدر خدمت کی توفیق ملی۔اسی طرح ہندوستان کی جماعتوں میں سے دور دور سے آئے ہوئے مہمان بھی تھے اور میزبان بھی بن گئے تھے اور ہر موقع پر جب بھی ان کی خدمت کی ضرورت پیش آئی ہے انہوں نے بڑے شوق اور ولولے کے ساتھ اس میں حصہ لیا۔اس سلسلہ میں اڑیسہ کی جماعت کرناٹک کی جماعت اور کیرلہ کی جماعت کشمیر کی جماعت، آندھراپردیش کی جماعت ، پنجاب کی اور دہلی کی جماعتیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں ان سب جماعتوں میں بہت ہی ولولہ اور جوش پایا جاتا ہے۔دہلی کے قیام کے دوران کیونکہ مقامی سیکیورٹی کی ضروریات کے لئے دہلی کی مقامی جماعت میں کافی افراد نہیں تھے اس لئے وہاں آندھرا پردیش کے نو جوانوں نے بہت ہی خدمت کی ہے۔دہلی والوں نے بھی بھر پور حصہ لیا اور اسی طرح کشمیر اور دوسری جگہوں سے آنے والے افراد کو بھی خدا نے توفیق بخشی۔غرضیکہ اس جلسہ میں کام کرنے والے خادم اور مخدوم دونوں ہی ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح مل جل گئے تھے کہ میرے اور تیرے کی تمیز ممکن نہیں رہی۔ہر شخص میزبان بھی تھا اور مہمان بھی تھا اور یہ ایک ایسا بھر پور جذبہ تھا جو میں سمجھتا ہوں کہ جماعت احمد یہ ہی کا اعجاز۔اور ساری دنیا میں آپ تلاش کر کے دیکھ لیں ، چراغ لے کے ڈھونڈمیں آپ کو ایسی جماعت دنیا کے پردے میں کہیں نظر نہیں آئے گی جو خدا کے فضل کے ساتھ اس طرح گہرے باہمی محبت کے رشتوں رہے میں منسلک ہو کہ خادم اور مخدوم کی تمیز اٹھ جائے۔ہر شخص خادم بھی ہو اور ہر شخص مخدوم بھی ہو۔اس پہلو سے جب میری نظر حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی وآلہ وسلم کے اس ارشاد پر پڑتی ہے کہ سید القوم خادمهم ( الجبادل ابن المبارک کتاب الجہادحدیث نمبر: ۲۰۹) تو اس کی ایک نئی تفسیر سامنے ابھرتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ قوم کا سردار وہی ہوتا ہے جو قوم کا خادم ہو۔سردار کے لئے خادم ہونا ضروری ہے اور قوم کے لئے ضروری ہے کہ خادم ہی کو اپنا سردار بنایا کرے۔یہ