خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 297 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 297

خطبات طاہر جلدا 297 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۹۲ء میں ہوں یا مغرب میں۔جیسا کہ قرآن کریم نے نصیحت فرمائی ہے دنیا کی لذتوں سے اس حد تک لاز مارو گردانی کرنی ہوگی کہ آپ کا دل گواہی دے کہ آپ ایک سرسری سی نظر سے ان باتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کے ہو نہیں گئے ورنہ خدا تعالیٰ نے دنیا میں جو نعمتیں پیدا کی ہیں وہ مومنین کے لئے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر نعمت جو پاک ہو وہ مومن کے لئے ہے اس سے کنارہ کشی کرنے کی تعلیم نہیں ہے۔نعمتوں کی طرف رجحان کو درست کیا گیا ہے۔یہ فرمایا گیا ہے کہ تمہارا قبلہ اور مقصود دنیا کی نعمتیں نہ بن جائیں ورنہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ نعمتیں تو ہم نے مومنوں کے لئے پیدا کی ہیں اس دنیا میں بھی اور آخری دنیا میں تو خالصہ مومنوں کے لئے ہوں گی۔پس جہاں تک نعمتوں کا تعلق ہے اُن سے استفادہ کرنا منع نہیں لیکن عیش و طرب یعنی نعمتوں کا غلط استعمال اور پھر نعمتوں کی طرف غلط رجحان یہاں تک کہ وہ زندگی کا مقصود بن جائیں اور ان کے بغیر انسان سمجھے کہ میری ساری عمر ضائع ہوگئی یہ باتیں غلط ہیں۔اس جدو جہد کو آسان کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے وہ تعلیم فرمائی کہ صبر کرو اور یا درکھو کہ اگر تم محسن بن جاؤ گے تو تمہارا کوئی عمل ضائع نہیں جائے گا۔پس صبر کے ایک اور معنی بھی اس صورتحال پر اطلاق پارہے ہیں کہ دنیا طلبی سے روگردانی کے وقت بھی کچھ صبر کرنا پڑتا ہے اور جب آپ مضبوطی سے صبر پر قائم ہو جائیں گے تو اس صبر سے بھی ایک حسن پھوٹے گا۔معاشرتی لحاظ سے وہ حسن کیا ہے یہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔دنیا کی مثلاً جو لذتیں ہم مغرب میں دیکھ رہے ہیں وہ خاندان خواہ احمدی ہوں یا غیر احمدی ہوں ، مسلم یا غیر مسلم ، عیسائی غیر عیسائی ، دہریہ ، سارے خاندان اس پہلو سے یکجائی صورت میں میرے پیش نظر ہیں جو لوگ دنیا طلبی کے پیچھے پڑ جاتے ہیں ان کی زندگی سے سکون اٹھ جاتا ہے۔ان کے گھروں سے امن اٹھ جاتا ہے، ان کے ہاں کسی چیز کی حفاظت کی کوئی ضمانت نہیں رہتی۔معاشرہ دن بدن دکھوں میں مبتلا ہوتا چلا جاتا ہے اور ایک ایسا موقع آتا ہے کہ نہ بیٹی باپ کی ہے، نہ باپ بیٹی کا ، نہ بیٹا ماں کا ہے نہ ماں بیٹے کی ، بہن بھائی سے جُدا ہو جاتی ہے اور اس طرح اس گھر میں اکٹھے رہتے ہیں جیسے کچھ جانور اتفاقا ایک جگہ اکٹھے کر دیئے گئے ہوں۔ان کی معیشت اکٹھی ہو گئی ہے لیکن صرف کچھ عرصے کے لئے اور جب ذرا بڑے ہوئے تو پھر جس طرح کبوتر چونچیں مار کر اپنے چھوٹے بچوں کو جب وہ ذرا سا الگ ہونے کی صلاحیت اختیار کر لیتے ہیں تو گھونسلے سے باہر نکال دیتا ہے۔