خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 295
خطبات طاہر جلد ۱۱ 295 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۹۲ء چکے ہیں اور یہی وہ بڑی مصیبت ہے جس کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ کی رفتار پر نہایت ہی مضر اثر پڑسکتا ہے۔جماعت احمدیہ خواہ مغربی معاشرے میں نبرد آزما ہو یا مشرقی معاشرے میں نبرد آزما ہو یعنی جہاد میں مصروف ہو جماعت کا وہ حصہ جو تنم کی زندگی کواپنا قبلہ بنالیتا ہے سوسائٹی کی طرف دوڑتا ہے اور سوسائٹی کی رنگینیوں کو دین کی سادگی پر فوقیت دیتا ہے اور ترجیح دیتا ہے وہ حصہ عملاً جماعت سے کٹنا شروع ہو جاتا ہے اور نیک کاموں میں وہ ممد اور مددگار رہنے کی اہلیت نہیں رکھتا دل میں اگر نیکیاں ہیں بھی تو جن کا قبلہ دنیا ہو جائے ، جن کی زندگی کا مقصود عیش و طرب ہو اُن کے لئے نیک کام کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی اور دو طرح کے نقصان ہوتے ہیں۔اول یہ کہ ساری جماعت ساری دنیا میں جہاد میں مصروف ہے اور کہیں دعوت الی اللہ کے پروگرام بیان کئے جارہے ہیں، کہیں خدمت خلق کے پروگرام بیان کئے جارہے ہوں، کہیں دنیا کے بڑے بڑے عظیم ممالک کو فتح کرنے کے منصوبے پیش کئے جارہے ہوں۔وہاں یہ حصہ جس کا دنیا کی طرف رجحان ہو جاتا ہے اوّل تو ایسے مواقع پر حاضر ہی نہیں ہوتا جہاں یہ نیک نصیحتیں کی جاتی ہیں۔یہ جمعوں سے دور ہو جاتے ہیں ، جماعت کی مجالس سے دور ہو جاتے ہیں ان کی اولا دمیں خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ اور ان کی بچیاں لجنات سے رفتہ رفتہ کنارہ کش ہونے لگ جاتی ہیں اور ان میں اور جماعت کے نیک کاموں میں فاصلے پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور اس کا بالآخر یہ نقصان پہنچتا ہے کہ صرف ان کا حال ہی ہاتھ سے نہیں جاتا بلکہ ان کی آئندہ نسلیں ہاتھ سے نکل جاتی ہیں اور ایسے لوگوں کے بچے پھر اپنے والدین کے مقابل پر جماعت سے بہت زیادہ دور ہٹ جاتے ہیں کیونکہ والدین نے کم سے کم نیک لوگوں کی گود میں پرورش پائی ہوتی ہے ایسی جو نسلیں میرے پیش نظر ہیں ان میں اکثر وہ بڑے لوگ ہیں جن کے آباؤ اجداد صحابہ یا صحابہ نہیں بھی تھے تو بزرگ تابعین تھے اور بہت ہی پاکیزہ لوگ تھے۔نیک خلق اور نیک عمل کرنے والے اور ان کو مل کر ہی انسان کے دل میں نیکی کی ایک بشاشت پیدا ہوتی تھی ایسے لوگوں کو انہوں نے اپنے گھروں میں چلتے پھرتے دیکھا ہوا ہے۔وہ اب موجود نہ بھی رہے ہوں تو ان کی نیکی کا یہ اثر ضرور ان کے دل میں جاگزیں ہو چکا ہے کہ احمدیت کچی ہے اور احمدیت کے نتیجہ میں خدا ملتا ہے لیکن دنیا داری کی حرص اور عیش و طرب کی لالچ نے احمدیت سے تعلق کمزور کر دیا لیکن ایمان بہر حال موجود ہے۔جن بیچارے بچوں نے یہ کمزور