خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 294
خطبات طاہر جلد ۱۱ 294 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۹۲ء اس مضمون کے تعلق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ظلم سے یہ مراد ہے کہ انسان دنیا کی لذتوں میں کھویا جائے اور ان کی پیروی کو اپنا مقصود اور مطلوب بنا بیٹھے۔دنیا کی لذتیں اور آسائشیں ان کا مقصود اور قبلہ بن جائے۔ایسے لوگ جن کا یہ قبلہ بن جاتی ہیں فرمایا ان کی طرف کوئی میلان نہیں ہونا چاہئے ، ان کی طرف کوئی جھکاؤ نہیں ہونا چاہئے۔اگر تم ایسا کرو گے تو یاد رکھو کہ ظالم لوگ ایسا کیا کرتے ہیں اور جب ظالم ایسا کرتے ہیں تو خدا کے حضور مجرم کے طور پر حاضر ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے یا ہو گا اس کے متعلق آگے پھر تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے۔اس میں جماعت احمدیہ کے لئے بہت ہی گہری نصیحت ہے جو اس زمانے میں آج کل کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں بہت کام دینے والی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جب کل کو عالم میں تبلیغ کا منصوبہ بنایا تو اس کے ساتھ تحریک جدید کا اعلان فرمایا اور تحریک جدید صرف مالی قربانی کا نام نہیں جس کے نتیجہ میں ساری دنیا میں تبلیغ ہوئی تھی بلکہ تحریک جدید اُس پروگرام کا نام ہے جس کے نتیجہ میں احمدیوں کو یہ تلقین کی گئی کہ عمداً آسائشوں سے روگردانی کرو اور دنیا کی لذتوں میں غرق نہ ہو۔جہاں تک ممکن ہے، توفیق ہے سادہ زندگی اختیار کرو اور عیش و عشرت کی دنیا کو چھوڑ دو اور اپنی تمام تر تو جہات خدمت دین کی طرف مائل کر دو۔تو لَا تَزكَنُوا میں جو نصیحت قرآن کریم نے فرمائی ہے وہ ہے ظالموں کی طرف نہ جھکو۔حضرت مصلح موعودؓ کا جو پروگرام تھاوہ محسنین کی طرف جھکنے کا پروگرام تھا اور اس آیت کا جو مثبت نتیجہ نکلتا ہے اس کا وہ پروگرام تھا کہ یہ نہ کرو تو پھر کیا کر و فر مایا محسنین کی طرف جھکو اور اس کے متعلق ایک تفصیلی پروگرام دیا گیا۔۔آج کل جو مغربی معاشرہ ہے اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کی لذتوں کی طرف بلانے والا معاشرہ ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اس پہلو سے اب مغرب اور مشرق میں کوئی تمیز نہیں رہی۔پاکستان میں بھی مادہ پرستی کے اسی طرح ابتلاء ہیں جیسے مغرب میں ہیں۔ہندوستان میں بھی ویسے ہیں جیسے مغرب کے دوسرے ممالک میں ہیں۔چین اور جاپان دوسرے ایشیائی ملک جس طرف بھی آپ نظر ڈالیں سب میں یہی بلا قوموں کو کھاتی ہوئی دکھائی دے گی کہ دنیا کی لذتیں اور ان کا تتبع اور ان کی طرف دوڑنا اور پاگلوں کی طرح عیش و آرام کی زندگی کے طلبگار ہو جانا اور اسی کے لئے وقف ہو جانا یہ آج قومی رجحانات کا خلاصہ ہے خواہ مغرب کی دنیا ہو یا مشرقی ہو اس پہلو سے سب برابر ہو