خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 293
خطبات طاہر جلد ۱۱ 293 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۹۲ء نیکیاں یا یہ عبادتیں تمہیں نیک انجام تک پہنچائیں گی اور اگر تم ایسا کرو گے تو یاد رکھو خدا تعالیٰ بھی ایسا ہی سلوک تم سے فرمائے گا اِنَّ اللهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِینَ۔اللہ تعالیٰ ہرگز کبھی بھی احسان کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں فرمایا کرتا۔پھر فرمایا۔فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِنْ قَبْلِكُمْ أُولُوا بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ إِلَّا قَلِيْلًا مِمَّنْ أَنْجَيْنَا مِنْهُمْ اے کاش ایسا ہوتا، ایسا کیوں نہ ہوا۔فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُونِ کہ پرانے لوگوں میں سے، پرانی بستیوں میں سے، پرانی قوموں میں سے جو تم سے پہلے گزریں ایسے عقل والے لوگ کیوں نہ پیدا ہوئے کہ جو فساد سے روکتے اور زمین کو فساد سے پاک کرنے کی کوشش کرتے إِلَّا قَلِیلًا مِّمَّنْ أَنْجَيْنَا مِنْهُمْ ہاں چند ایسے لوگ تھے جومستثنیٰ تھے۔پہلے لوگوں میں سے بھی ایسے تھے جن کو خدا تعالیٰ نے توفیق بخشی کہ وہ فساد کو دور کرنے کی کوشش کرتے رہے اور اس کے نتیجہ میں پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو نجات بخش دی۔وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَا أَتْرِفُوْا فِيْهِ وَوَكَانُوا مُجْرِمِينَ لیکن یہ لوگ جنہوں نے ظلم کی راہ اختیار کی۔انہوں نے کس چیز کی پیروی کی فرمایا وَ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَا أُتْرِفُوا فِيهِ ان لوگوں نے ان آسائشوں کی پیروی کی جو خدا تعالیٰ نے ان کو عطا کی تھیں یا مضمون یوں ہے کہ مَا أُتْرِفُوا فِیهِ جو ان کو میسر آئیں یا ان کو دی گئی تھیں یعنی نعمت کی زندگی ، آسائش کی زندگی عیش و عشرت کی زندگی، ان چیزوں کو انہوں نے ترجیح دی وَ كَانُوا مُجْرِ مِيْنَ اور وہ مجرم بن گئے یا مجرم تھے۔اس آیت میں جو تدریج بیان ہوئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مجرم بننا ظَلَمُوا کے نتیجہ میں ہوا۔اور ظَلَمُوا کی تشریح یہ فرمائی کہ وہ آسائشوں کے پرستار ہو گئے آسائشوں کی پیروی کرنے والے ہو گئے دنیا کی لذتوں کے لئے وقف ہو گئے۔اس سے پہلے یہی لفظ ظَلَمُوا ان آیات میں گزرا ہے جو میں پہلے تلاوت کر چکا ہوں۔فرمایا وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ان لوگوں کی طرف ہرگز نہ جھکو جن کی طرف تمہارا کوئی میلان نہ ہو جو ظالم ہوئے اب اس آیت میں ظلم کی تشریح فرما دی ہے کہ ہم نے جو تمہیں خبر دار کیا ہے کہ ظالموں کے قریب بھی نہ ہونا ان کی طرف جھکنا نہیں تو ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ یہاں اس مضمون میں ظلم سے کیا مراد ہے۔