خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 292
خطبات طاہر جلد ۱۱ 292 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۹۲ء ایسی حالت میں جب نماز میں داخل ہو تو پھر وہ محسنین کی نماز بنتی ہے۔ایسی حالت میں انہیں دیدار نصیب ہوتا ہے اور حسن کے دیدار سے زیادہ اور کسی چیز میں لذت نہیں۔پس اس کے معنی یہ ہوں گے کہ صبر کے ساتھ نماز ادا کرنے والے اگر چہ آغاز میں انہیں نماز کے مزے نہ بھی آتے ہوں تو وہ اس یقین کے ساتھ کہ یہ اچھی چیز ہے اُس سے چمٹے رہتے ہیں پھر نماز میں ایک حسن پھوٹتا ہے اور اس کے نتیجہ میں پھر خدا تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوتا ہے اور وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے جس کا آنحضور ﷺ نے ذکر فرمایا کہ وہ خدا کو اپنے سامنے دیکھنے لگ جاتے ہیں اور اسی میں نماز کی اصل لذت ہے اور اس سے پہلے کا مرتبہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو خدا کے سامنے کھڑا ہوا محسوس کرنے لگ جاتے ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلیٰ مرتبہ کو پہلے بیان فرمایا کہ یہ مقصود ہونا چاہئے اور بیچ کی منزل کو بعد میں بیان فرمایا جس میں سے ہر محسن ضرور گزرتا ہے۔پس جب نمازیں جاگ اٹھتی ہیں اور ان میں روشنی پیدا ہوتی ہے تو پہلے ان کے اندر اپنا ایک ذاتی حسن پیدا ہوتا ہے پھر خدا تعالیٰ کے قرب کا احساس نمایاں ہو جاتا ہے اور نماز کے ہر حصہ پر غالب آجاتا ہے۔اس قرب سے پھر دیدار الہی پھوٹتا ہے اور نمازی کو اپنا محبوب خدا اپنے سامنے کھڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔سجدہ کرتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ خدا کے قدموں میں سجدہ کر رہا ہے اور یہ نماز کی وہ لذت ہے جس کے متعلق فرمایا کہ اِنَّ اللهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِینَ کہ یاد رکھو! اللہ احسان کرنے والوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔پس جولوگ دعوت الی اللہ اس طریق پر کریں جس طریق پر قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے اور عبادت اور نیکیوں کے ساتھ ایسا تعلق قائم کریں جیسا کہ اس آیت کریمہ میں مذکور ہے تو بالآخر وہ ضرور کامیاب ہوں گے اور صبر کے یہ بھی معنی ہیں کہ اپنے نیک انجام پر یقین رکھیں۔اگر یہ یقین نہ ہو تو صبر آ ہی نہیں سکتا۔حقیقی صبر اُسی کو نصیب ہوتا ہے جو خدا پر ایمان لاتا ہے اور آخرت پر ایمان لاتا ہے کیونکہ آخرت اچھے انجام کی خبر دیتی ہے۔دنیا میں کوئی کتنی ہی تکلیفوں میں سے گزررہا ہو یا اس کا کوئی قریبی گزررہا ہو جب دل میں یہ کامل یقین جاگزیں ہو کہ بالآخر ان تکلیفوں سے صرف چھٹکارا ہی نصیب نہیں ہونا بلکہ اس سے بہت بہتر حالت عطا ہوگی جو دنیا کی سب تکلیفوں کے مقابل پر اتنی عظیم الشان نعمت ہوگی کہ سب تکلیفیں بھول جائیں گی تو اس کے نتیجہ میں صبر عطا ہوتا ہے۔صبر کا یقین سے ایک بہت گہرا تعلق ہے تو فرمایا کہ جب نماز کو پکڑو یا نیکیوں کو پکڑو تو دل میں یہ کامل یقین ہونا چاہئے کہ بالآخر یہ