خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 291 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 291

خطبات طاہر جلد ۱۱ 291 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۹۲ء جہاں بھی مشکل اور تکلیف کا مضمون ہوگا وہیں صبر کا مضمون ہوگا۔پس صبر کی اس لئے ضرورت پڑتی ہے کہ ایک شخص اگر نئی نئی نماز شروع کرے، نیا نیا سچ بولنا شروع کرے، نیا نیا لین دین میں معاملہ صاف رکھنے کی کوشش کرے تو شروع میں اُسے بہت دقت پیش آتی ہے نماز کے لئے اٹھنا اور اس پر قائم ہونا بھی مشکل، سچ بولنا بھی مشکل اور معاملات صاف کرنا بھی مشکل غرضیکہ ہر نیکی ، یہ ایک لازمہ ہے کہ نیکی کی ابتداء میں انسان دقت محسوس کرتا ہے، تکلیف اٹھانی پڑتی ہے اس لئے حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر کا یہ معنی کیا کہ نیکی سے چمٹ جائے، کسی حالت میں اُسے چھوڑے نہیں اور جب نیکی اس سے آگے ترقی کر جاتی ہے تو پھر وہ احسان میں داخل ہو جاتی ہے۔ہر نیکی انسان کو احسان کی طرف لے کر جاتی ہے اور اس وقت نیکی میں ایک لطف پیدا ہو جاتا ہے۔محسن کا ایک یہ معنی بھی ہے کہ اپنے فعل کو زیادہ خوبصورت بنانے والا۔پس عبادت کے لحاظ سے محسن کا مطلب ہے، وہ شخص جو عبادت کرتے وقت گویا خدا کو دیکھ رہا ہو اور آمنے سامنے اس سے گفتگو کر رہا ہو اور دوسرا معنی یہ ہے کہ اگر یہ نہیں تو کم سے کم حاضر باش رہے یہ خیال ہمیشہ اُسے دامن گیر رہے کہ میں سب سے اعلیٰ اور اجل ہستی کے سامنے کھڑا ہوں اور اس حضوری کے جو تقاضے ہیں ، جو ادب اور احترام اس احساس کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے وہ اس کی عبادت اور اس کی حرکات وسکنات میں پیدا ہو جائے۔محسن کا دوسرا مطلب ہے کسی چیز کو خوبصورت بنانے والا پہلے سے بہتر کر دینے والا کسی چیز میں حسن داخل کرنے والا پس وہ لوگ جو نیکی پر صبر سے قائم ہو جاتے ہیں ان کی نیکی پھر حسین ہو جاتی ہے اس میں دلکشی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ نیکی محض جبر سے نہیں کرتے بلکہ اسکی محبت میں کرتے ہیں۔نیکی کے ساتھ ایک لطف وابستہ ہوتا ہے جو ابتداء میں حاصل نہیں ہوا کرتا کچھ عرصے کے تجربہ کے بعد اس میں سے وہ حسن پھوٹتا ہے اور نیکی سے محبت پیدا ہو جاتی ہے۔تو صبر کے بعد محسن کی تعریف پھر یہ ہوئی کہ وہ لوگ جو نیکیاں اختیار کرتے ہیں اور صبر سے مستقل مزاجی کے ساتھ کوشش کے ساتھ ، باوجود اس کے کہ دل مائل نہ ہو وہ اس نیکی کو مضبوطی سے پکڑ لیتے ہیں اور پھر کسی حالت میں اس کو چھوڑتے نہیں رفتہ رفتہ ان کی نیکی میں سے ایک حُسن پھوٹتا ہے اور ان کی نیکی میں ایک نور پیدا ہو جاتا ہے اور ایک دلکشی پیدا ہوتی ہے۔پس وہ نیکیوں سے جبر کے ساتھ نہیں بلکہ محبت کے نتیجہ میں تعلق رکھنے لگ جاتے ہیں اور وہ نیکیاں بغیر کسی کوشش اور بغیر جدوجہد کے ان کی زندگی کا مستقل حصہ بن جاتی ہیں۔