خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 290
خطبات طاہر جلد ۱۱ 290 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۹۲ء وقت کی ساری نمازیں اور ان کے اوقات اس آیت کریمہ میں بیان ہو گئے اور زُلفا میں ہمیں یہ مزید معنی ملے کہ اگر تم رات کو اُٹھ کر الگ عبادت کرو گے تو تمہیں قرب الہی عطا ہو گا۔ایسا قرب الہی جو عام نمازوں سے بڑھ کر ہے اور یہ نماز تمہیں اپنے رب کے قریب تر کر دے گی۔پس اس مزید اضافی تشریح کے ساتھ اب میں اگلی آیت کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کیونکہ اس آیت کریمہ کے دوسرے پہلوؤں پر گزشتہ خطبہ میں گفتگو ہو چکی ہے۔وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ صبر سے کام لے کیونکہ اللہ تعالی محسنین کا اجر ضائع نہیں فرماتا محسنین کون لوگ ہیں؟ اس کا ایک تعلق نماز سے بھی ہے اور چونکہ نماز کی بات ہو رہی ہے اس لئے سب سے پہلے نماز سے تعلق رکھنے والے معنی بیان ہونے چاہئیں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے محسن کی یہ تعریف فرمائی کہ جو اس طرح عبادت کرے گا کہ گویا وہ خدا کو دیکھ رہا ہے اور اگر وہ ایسی عبادت کے مقام پر ابھی فائز نہیں ہوا اسے یہ مرتبہ حاصل نہیں ہوا تو اس طرح اللہ کی عبادت کرے کہ گویا خدا کو سامنے کھڑا دیکھ رہا ہے تو کم سے کم اتنا تو کرے کہ یہ احساس بیدار ر کھے کہ خدا اُسے دیکھ رہا ہے اور ساری عبادت کے وقت اس کے ذہن پر یہ ایک تصور مستولی ہو اور یہ بات طاری ہو کہ میں خدا کے حضور کھڑا ہوں اور وہ مجھے دیکھ رہا ہے۔یہ حسن ہے جو ایسی نماز ادا کرتا ہے تو اس آیت کریمہ میں پہلے فرمایا وَ اصْبِرُ پھر فرمایا کہ اِنَّ اللهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ که یقینا اللہ تعالی محسنین کا اجر ضائع نہیں کیا کرتا۔صبر کا جہاں تک تعلق ہے اس کے مختلف معانی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں عام غم کی حالت میں انسان خدا کی خاطر جو برداشت کرتا ہے اور حوصلہ نہیں چھوڑتا اسے بھی صبر کہا جاتا ہے لیکن نیکیوں کے ساتھ چمٹ جانے کو بھی صبر کہا جاتا ہے۔مضبوطی سے نیکی پر ہاتھ ڈالنا اور اس پر قائم ہو جانا اسے صبر کہتے ہیں۔صبر کا اس مضمون سے کیا تعلق ہے۔پہلے میں یہ بیان کر لوں پھر محسنین کے تعلق میں اگلی بات بیان کروں گا۔نیکی کے دو کنارے ہیں ایک وہ جب انسان نیکی میں داخل ہوتا ہے اس وقت نیکی پر انسان کو دوام حاصل نہیں ہو جا تا بلکہ نیکی کو اختیار کرنے میں کچھ محنت کرنی پڑتی ہے۔جدو جہد کرنی پڑتی ہے۔نیکی عقل کے لحاظ سے تو اچھی لگتی ہے لیکن عادت اور مزاج کے لحاظ سے مشکل معلوم ہوتی ہے اور