خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 259
خطبات طاہر جلد ۱۱ 259 خطبه جمعه ۰ اراپریل ۱۹۹۲ء ہے لیکن اتنی تلخ ہے کہ اگر سمندر میں ڈالا جائے تو سمندر متغیر ہو جائے یعنی اس کا رنگ بدل جائے اس کا مزا بدل جائے ، اس کی کیفیت میں تبدیلی پیدا ہو جائے۔امر واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کبھی بھی اپنی محبت پر اصول کو قربان نہیں فرمایا۔حضرت عائشہ صدیقہ سے آنحضور ﷺ کو جو پیار تھا وہ ظاہر وباہر ہے اور ہمیشہ اسلام کی تاریخ میں وہ ایک درخشندہ پیار کی مثال کے طور پر زندہ رہے گا کہ مرد کو عورت سے کیسا پیار ہونا چاہئے لیکن اس پیار کے نتیجہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اصولوں کو قربان کرنے کی اجازت کبھی نہیں دی گئی اور ہمیشہ موقع پر صحیح نصیحت فرمائی اس کو قو آم کہتے ہیں یہی وہ قو ام لفظ ہے جو قرآن کریم میں مردوں کے متعلق آیا ہے۔تو میں نے یہ سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ آپ قوام ہیں آپ ظلم سے باز رہیں اور مطلب یہ بھی تھا کہ ظلم سے باز رکھیں دونوں باتیں قو آم میں آتی نہیں لیکن اگر مغلوب الغضب ہو جائیں، اگر چھوٹی چھوٹی باتوں پر طیش میں آجائیں اور نہ صرف اپنی بیوی کوکو سنا شروع کریں بلکہ اس کے ماں باپ کو بھی چھید جائیں اور طرح طرح سے ان کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنادیں تو نہ یہ حسن خلق ہے، نہ یہ قوامیت ہے، نہ یہ مردانگی ہے، یہ تو گھٹیا کمینی ذلیل بات ہے۔تو میں اگر احمدیوں کو ایسی گھٹیا، کمینی، ذلیل باتوں سے روکتا ہوں تو کسی کو اس بات میں ناراضگی کی ضرورت نہیں۔احمدیوں سے اپنی محبت کے نتیجہ میں ایسا کرتا ہوں۔میں جانتا ہوں کہ ہم میں بہت سی کمزوریاں ہیں اور میرے فرائض میں داخل ہے کہ ان کمزوریوں کو دور کروں۔میری تمنا ہے کہ ہمارا ہر گھر جنت نشاں ہو جائے۔پس اس طبعی تمنا کے نتیجہ میں جب نصیحت کرتا ہوں تو بعض دفعہ اس میں سخت الفاظ بھی آجاتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ کسی تلخی کے نتیجہ میں بات نہیں ہوتی۔مثلاً میرا یہ کہنا کہ ایسی صورت میں میں تمہیں عذاب الیم میں خوشخبری دیتا ہوں قرآن کریم نے بعض عذابوں سے متنبہ کرنے کے لئے یہی خوشخبری کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں کہ تمہیں ہم عذاب کی خوشخبری دیتے ہیں اور یہ خوشخبری ایسی صورت میں دی جاتی ہے جب انسان ایسی حالت میں جان دے کہ وہ ظالم ہو اور بخشش طلب کرنے کا کوئی موقع باقی نہ رہے۔پس مراد یہ ہے کہ نعوذ بالله من ذلک سارے مرد ہی ظالم ہیں مراد یہ تھی کہ موت سے پہلے پہلے اپنے اندر ایسی پاک تبدیلی پیدا کرلو کہ تمہیں قرآن کے الفاظ اور حضرت محمد مصطفی ماہ کی تنبیہہ عذاب الیم کی خوشخبری نہ دے رہی ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجاؤ