خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 255 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 255

خطبات طاہر جلدا 255 خطبه جمعه ۰ ار ا پریل ۱۹۹۲ء تقویٰ اختیار کرے اور خدا کی طرف اُس کے پیار کو حاصل کرنے کا سفر شروع کر دے تو اس سفر کے آداب کا نام تقویٰ ہے۔مراد یہ ہے کہ انسان ایک پیارے کا دل جیتنا چاہتا ہے اور ہر وقت اس بات پر نگران رہتا ہے کہ مجھ سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو جائے جس سے یہ مجھ سے ناراض ہو جائے جو اس کو بری لگے۔یہ خوف ہی دراصل تقویٰ ہے۔تقویٰ کا مطلب بعض چیزوں سے بچنا ہے اور عرف عام میں اس کا ترجمہ خدا کا خوف کیا جاتا ہے۔خوف کن معنوں میں ؟ اس بارہ میں پہلے بھی میں روشنی ڈال چکا ہوں آج میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں۔غالباً پہلے بھی کہہ چکا ہوں گا لیکن دوبارہ اس بات پر اصرار کرنا چاہتا ہوں کہ تقویٰ سے مُراد یہ خوف ہے کہ میں ان باتوں سے بچوں جن باتوں سے مجھے اپنے محبوب کی ناراضگی دیکھنی پڑے اور وہ مجھ سے خفا ہو جائے۔یہ ایک منفی طاقت ہے جو مثبت نتائج پیدا کرتی ہے۔تقویٰ بظاہر ایک منفی طاقت ہے بچنے کا نام تقویٰ ہے اور بچنے سے مراد جیسا کہ آپ سفر پر جارہے ہوں تو ٹھوکروں سے بچنا راہزنوں سے بچنا، کئی قسم کے اتفاقی حادثات اور نقصانات سے بچنا۔یہ سارے بچنے کے مفہوم اس میں داخل ہیں جو منفی پہلو رکھتے ہیں لیکن ان کا جو مثبت نتیجہ ہے وہ جان، مال، عزت اور خوشیوں کی حفاظت ہے اسی لئے قرآن کریم نے خوشیوں کے موقع پر خصوصیت سے بیان فرمایا۔شادی بیاہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ جن آیات کی تلاوت فرمایا کرتے تھے ان تین آیات میں پانچ مرتبہ تقویٰ کا ذکر ہے خوشی کا موقع اور خوف کی باتیں مراد یہ ہے کہ یہ خوف تمہاری خوشیوں کی حفاظت کرے گا اور تمہیں کئی قسم کے عذابوں سے پناہ میں رکھے گا۔چلتے چلتے آپ کو ٹھوکر لگ جاتی ہے۔خدا نخواستہ گر جاتے ہیں کوئی ہڈی ٹوٹ جاتی ہے بعض دفعہ ایسے بھی نقصان ہو جاتے ہیں کہ انسان عمر بھر چلنے سے محروم رہ جاتا ہے ایک چھوٹی سی غفلت کے نتیجہ میں ساری زندگی کا عذاب ہے تقویٰ کا سفر بھی اسی قسم کا سفر ہے۔اس کو معمولی بات نہ سمجھیں تقویٰ کے فقدان کے نتیجہ میں بعض دفعہ انسان ایسی ٹھو کر بھی کھا جاتا ہے جو اس کے لئے ہمیشہ کے لئے روحانی عذاب کا موجب بن جاتی ہے۔پس اس پہلو سے میں مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی خدا کا تقویٰ اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں مردوں کے متعلق اس لئے بات کو خصوصیت سے بار بار دہراتا ہوں کہ مرداگر مظلوم ہوتو اس کے لئے نجات کے رستے نسبتاً زیادہ ہیں اور آسان ہیں مرد باہر کی دنیا میں ایک آزاد زندگی بسر کر سکتا ہے۔