خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 21 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 21

خطبات طاہر جلد ۱۱ 21 خطبه جمعه ۱۰/ جنوری ۱۹۹۲ء پس احمدیت سے ان معنوں میں حقیقی پیار ہونا ضروری ہے کہ احمدیت کا پیغام آپ کے دلوں کی آرزو بن جائے۔آپ کی امنگیں ہو جائے ، آپ کی تمنائیں بن جائے۔وہ خواہیں بن جائے جس میں آپ بستے رہیں۔محض قادیان کی واپسی ہی پیش نظر نہ ہو بلکہ اسلام کے قادیان میں فتح اور غلبہ کے ساتھ واپسی کی امنگ پیش نظر رہے۔ورنہ چند احمدیوں کا واپس آکر یہاں بس جانا حقیقت میں کوئی بھی معنی نہیں رکھتا۔یہ درست ہے کہ ہم جب یہاں آئے تو یہاں کے باشندگان نے بڑی وسیع حوصلگی کا ثبوت دیا۔بڑی سخاوت کے ساتھ ، بڑی وسیع القلمی کے ساتھ ہمیں خوش آمدید کہا اور جن گلیوں اور سڑکوں سے ہم گزرے ہیں بار ہا یہ آوازیں آئیں کہ آپ آجائیں اور یہیں بس رہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بات ان کے حسنِ اخلاق پر روشنی ڈالنے والی تھی اور ان کے اس حسن خلق کا دل پر بہت گہرا اثر پڑا لیکن در حقیقت یہ آواز نہیں ہے جو احمدیت کو دوبارہ قادیان کی طرف لائے گی بلکہ وہ آواز ہے جو امنا اور صدقنا کی آواز ہے، وہ ان گلیوں سے اٹھنے لگے۔وہ اس ماحول سے اٹھنے لگے اور کثرت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والے، آپ کو حق جاننے والے، آپ کو حق پرست سمجھنے والے یہاں پیدا ہوں ، تب وہ صورتحال پیدا ہوگی کہ احمدیت فتح وغلبہ کے ساتھ اپنے وطن کو واپس لوٹے گی۔اس وقت تک جو بھی خدا کی تقدیر ظاہر ہو ہم نہیں جانتے کہ کس طرح ظاہر ہوگی اور کب ظاہر ہوگی ہم اس پر راضی ہیں اور ہمارے قربانی دینے والے جو بھائی ایک لمبے عرصے سے ان مقدس مقامات کی حفاظت کر رہے ہیں ہم ان کے دل کی گہرائیوں سے ممنون ہیں اور ان کو یقین دلاتے ہیں کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی احمدی بستا ہے ، وہ آپ کی قدر کرتا ہے، آپ کو عزت اور محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اگر ہم سے آپ کے حقوق ادا کرنے میں پیچھے کوئی غفلت ہوئی تو میں اقرار کرتا ہوں کہ ہم ان غفلتوں کے نتیجہ میں اپنے خدا سے معافی مانگتے ہوئے ہر قسم کی تلافی کی کوشش کریں گے۔قادیان کی واپسی جب بھی ہو اس سے پہلے پہلے لازم ہے کہ یہاں آپ کی عزت اور آپ کے وقار کو بحال کیا جائے تا کہ آپ سر بلندی کے ساتھ ان گلیوں میں پھر سکیں۔آپ کو کوئی احساس محرومی نہ رہے اس لئے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے اور اللہ کی تقدیر سے امید رکھتا ہوں کہ مجھے توفیق بخشے گا