خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 254 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 254

خطبات طاہر جلد ۱۱ 254 خطبہ جمعہ اراپریل ۱۹۹۲ء چلا جاتا ہے اور پھر آخر ان میں ڈوب جاتا ہے۔ان پر دوں سے باہر آ کر وہ حقائق کا مشاہدہ کرے اور اس کے کئی طریق ہیں۔وہ ذات جو انسان کے لئے ظلمات پیدا کرتی ہے۔ایک اور زاویے سے دیکھا جائے تو وہی ذات انسان کی ظلمت دور کرنے کا موجب بھی بن جاتی ہے۔حقیقت میں آخری طاقت انانیت ہی ہے۔اپنے نفس کے ساتھ پیار ہی ہے جو منفی چیزیں بھی پیدا کرتا ہے اور مثبت چیزیں بھی پیدا کرتا ہے۔مثلاً ایسے خاوند جن کا میں نے ذکر کیا جن کے ساتھ مائیں اور دوسرے عزیز بھی شامل ہوتے ہیں۔ایک نہتی بے بس عورت ان کے گھر میں ہے اس کو طعنوں کا نشانہ بناتے ہیں ، طرح طرح کی بدسلوکیاں کرتے ہیں اور وہ بے اختیار اور بے بس گھلتی چلی جاتی ہے۔اُن کو کبھی اس بات کا خیال آہی نہیں سکتا کہ وہ زیادتی کر رہے ہیں کیونکہ وہ بعض ایسی کمزوریاں دیکھتے ہیں جو اس عورت میں موجود ہوتی ہیں اور پھر فرضی طور پر ان کمزوریوں کو بڑھایا بھی جاتا ہے۔معمولی سے نقص بھی ان کو بڑے بڑے دکھائی دیتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں جب تشدد کرتے ہیں اور سختی کرتے ہیں تو ان کو پتا نہیں لگتا کہ کتنا دکھ ہو رہا ہے۔اس بات کو سمجھنے کے لئے وہ اپنی ذات کے حوالے سے ایک اور رنگ میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ان کی بہنیں ہیں ان کی مائیں ہیں ان کے اور عزیز ہیں جن سے ان کو گہرا پیار ہے وہ اگر یہ سوچیں کہ ان کے ساتھ اگر ایسے سلوک ہوں جب یہ دوسروں کے رحم و کرم پر ہوں تو پھر ان کا کیا حال ہو گا۔ایسی صورت میں ان کی غیرت بہت بھڑک اٹھتی ہے اور وہ جان دینے اور جان لینے پر آمادہ ہو جایا کرتے ہیں وہ لوگ جو دوسروں کی عزتوں سے کھیلتے ہیں اگر وہ اپنی عزت کے حوالے سے مزید غور کریں تو وہ یہ معلوم کر کے حیران رہ جائیں گے کہ کس بے باکی کے ساتھ وہ ایسے کاموں پر آمادہ ہوتے تھے جو اگر ان سے کیا جائے تو وہ اپنی جان دینے اور دوسرے کی جان لینے پر تیار ہوں۔تو نفس کا حوالہ دو طرح سے ہو سکتا ہے نفس کا ایک حوالہ وہ ہے جس میں ظالم اپنے اندرونے سے بے خبر دوسرے کے نقائص ڈھونڈتا چلا جاتا ہے اور اپنے بدلے دوسرے سے لیتا چلا جاتا ہے۔ایک حوالہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو انسان ظالم سمجھے یا ان لوگوں کے خلاف ظلم کا تصور باندھے جو اس کو پیارے ہوں اور پھر دیکھے کہ کیا ہونا چاہئے تھا اور کیا نہیں ہورہا اس طرح انسان کی آنکھیں کھلتی ہیں اور وہ کچھ نظر آنے لگتا ہے جو پہلے نظر نہیں آسکتا۔دوسرے زندگی کے سفر میں سب سے زیادہ لطافت پیدا کرنے والی چیز تقویٰ ہے اگر انسان