خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 253
خطبات طاہر جلدا 253 خطبہ جمعہ ۱۰ را پریل ۱۹۹۲ء آپ کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں۔ظلم کے مختلف معیار ہیں اور اس کا انسان کے احساس کے معیار سے بہت گہرا تعلق ہے۔بہت سی ایسی باتیں ہیں جو انسان اپنے مزاج کے مطابق کرتا ہے اور اُن کو ظلم نہیں سمجھتا اور بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کو انسان بعض دفعہ عام اخلاق سے گرا ہو انہیں دیکھتا لیکن خدا کے نزدیک یا ان لوگوں کے نزدیک جن کے اخلاق بلند ہوں وہ باتیں اخلاق سے گری ہوئی ہوتی ہیں۔تو مختلف انسانی معیار ہیں جن کے ساتھ انسان کی نظر نئے پیمانے تراشتی رہتی ہے اور ان پیمانوں میں نئی صورتیں دیکھتی رہتی ہے۔پس اپنے سلوک کو جو غیر کے ساتھ کیا جاتا ہے دیکھنے کے بھی مختلف پیمانے ہیں جو نظر کی لطافت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کی نظر میں لطافت ایسی تھی اور آپ کے اخلاق کا مرتبہ اور مقام اتنا بلند تھا کہ وہ باتیں جو آپ اپنے لحاظ سے کمزوریاں سمجھتے تھے اور کثرت سے ان پر استغفار فرمایا کرتے تھے۔ایک ولی اللہ کی نظر میں وہ نیکیاں شمار ہوسکتی تھیں اور ان اعمال پر اسے وہم و گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ یہ کوئی مغفرت طلب کرنے یعنی استغفار کا مقام ہے۔پس میری مراد یہ تھی اور یہ ہے کہ جماعت کے اخلاق کے معیار بلند کروں اور اُن کی طبیعتوں میں لطافت اور نظافت پیدا کرنے کی کوشش کروں۔اس کے نتیجہ میں وہ خود اپنے اعمال کے بہترین نگران بن سکتے ہیں اگر ذوق کا معیار بلند نہ کیا جائے تو اخلاق کا معیار بلند نہیں ہوسکتا اور بسا اوقات انسان خود اپنے سے اندھیرے میں رہتا ہے۔پردے اٹھنے کا محاورہ آپ نے جو صوفیا کی زبان سے سنا ہوا ہے۔یہ ایک حقیقی بات ہے یہ محض صوفیانہ خیالات کی نازک خیالی نہیں ہے بلکہ بہت گہرے تجربہ کے نتیجہ میں بعض صوفیا نے تمثیل کے طور پر یہ بات پیش کی ہے کہ انسان پردوں میں رہتا ہے اور جب اس کے پردے اٹھتے ہیں تو پھر وہ عارف باللہ بنا شروع ہوتا ہے۔تو حقیقت یہ ہے پہلے اپنے نفس سے پردے اٹھا کر اپنے وجود کو دیکھنا شروع کریں تب آپ اس بات کے اہل ہوں گے کہ آپ دنیا کے ساتھ حسن سلوک کر سکیں جو لوگ پردوں میں رہتے ہیں وہ ہمیشہ مظلوم رہتے ہیں۔چنانچہ میں نے بعض اوقات ایسے میاں بیوی کے جھگڑے سنے ہیں جو بدھیبی سے دونوں ہی پردوں میں تھے۔ساری عمر میاں اپنے آپ کو مظلوم سمجھتا رہا اور ساری عمر بیوی اپنے آپ کو مظلوم بجھتی رہی اور کسی نے یہ کوشش نہیں کی کہ اپنی ذات سے بالا ہو کر انسان اپنے نفس پر اندھیروں کے جو پردے چڑھاتا