خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 248 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 248

خطبات طاہر جلد ۱۱ 248 خطبه جمعه ۳ راپریل ۱۹۹۲ء اپنے وجودوں کو اپنی اولاد کی زندگیاں برباد کر رہے ہیں، ان کا کچھ بھی نہیں رہا، نہ دین رہانہ دنیا ہی۔تو یہ گھاٹا کھانے والے لوگ ہیں۔وفادار اور کامل وفادار ہی ہے جس کا وقف قبول ہوتا ہے اور اس ضمن میں بیویاں ایک غیر معمولی کردار ادا کر سکتی ہیں اور یہ وہ ہیں جن کے متعلق تاریخ خاموش رہ جاتی ہے۔تو آپ لوگ متعجب نہ ہوں کہ میں نے آج کیوں خصوصیت سے ان کا ذکر کیا ہے۔میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ احمدیت کی تاریخ میں کچھ ابواب ہیں جو سیاہی سے کتابوں میں لکھے جارہے ہیں کچھ ان کے پس منظر میں روشنائی سے لکھے جانے والے ایسے ابواب بھی ہیں جن کو ظاہری آنکھ نہیں دیکھ رہی۔کتنی قربانی کرنے والی عورتیں ہیں جنہوں نے اپنے خاوندوں کے بغیر اپنی جوانیاں ڈھال دیں اور زندگی کے آرام تج دیئے۔اور بڑے صبر کے ساتھ اپنے دکھوں کو اپنی حد تک اپنی چھاتیوں میں محفوظ کئے ہوئے وہ وفا کے ساتھ سلسلہ کی خدمت پر قائم رہیں، عہد بیعت پر قائم رہیں عہد وقف پر نہ صرف قائم رہیں بلکہ خاوندوں کو قائم رکھا اور جب ان میں کمزوری آئی تو اٹھ کھڑی ہوئیں اور کہا خبردار! یہ وہ رستہ ہے جس سے واپسی کا کوئی سوال ہی نہیں تو ان کا بھی تاریخ میں ذکر آنا چاہئے۔میں نے سوچا کہ اب وقت ہے صرف میری بیوی کا حق نہیں اور واقفین زندگی ہیں جن کی بیویاں ہیں جنہوں نے بڑی بڑی اور بہت زیادہ قربانیاں کی ہیں ان کو بھی حق ہے کہ تاریخ ان کے ناموں کو زندہ رکھے اور ان کے لئے دعائیں کی جائیں۔صرف مشکل یہ ہوتی ہے کہ عورتوں کے معاملات میں بعض دفعہ جب با قاعدہ کو ائف اکٹھے کئے جائیں تو مبالغہ آمیزی کوئی مقابلے کچھ ریا کاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔اس لئے میں نے ابھی تک ایسا نہیں کہا لیکن دوسرے جن کے علم میں ایسی مخلص خواتین آتی ہیں جو فوت ہو چکی ہوں یا ابھی زندہ ہوں ان کو چاہئے کہ وہ ان کی تاریخ محفوظ کر کے تحریک جدید کو بھجوائیں تاکہ ان کے نام بھی کتابوں میں دعاؤں کی خاطر لکھے جائیں۔جہاں تک اللہ تعالیٰ کا تعلق ہے وہ تو کسی ظاہری ذکر کا محتاج نہیں ہے اس کے ہاں تو ان واقفین کی یہ پاک مقدس بیویاں بھی وقف کے طور پر ہی شمار ہوں گی اور ان کا فیض انشاء اللہ ان کی آئندہ نسلوں کو پہنچتا رہے گا۔اس کے بعد اب میں اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔بی بی کی طرف سے آپ سب کو سلام کیوں کہ وہ بار بار اظہار تشکر کرتی تھیں کہ جماعت کتنی پیاری ہے اور کتنی دعائیں کر رہی ہے۔اللہ تعالیٰ