خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 20 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 20

خطبات طاہر جلد ۱۱ 20 20 خطبه جمعه ۱۰/ جنوری ۱۹۹۲ء بڑھیں تو خدا کی تقدیر دوڑ کر آپ کی طرف آئے گی۔پس دنیا کا اربع اپنی جگہ درست، لیکن روحانی انقلابات کے لئے جوار بع قرآن کریم نے پیش فرمایا ہے، جس پر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے روشنی ڈالی ہے، وہ یہی بتاتا ہے کہ انسان کے ساتھ جب خدا تعالیٰ کی تقدیر شامل ہو جائے تو فاصلے بہت تیزی سے کٹنے لگتے ہیں اور انسانی کوششوں سے کئی گنا زیادہ ان محنتوں کو پھل عطا ہوتا ہے جوانسان خدا کی راہ میں صرف کرتا ہے۔پس بظاہر ناممکن کام ہے لیکن ممکن ہوسکتا ہے۔پہلے بارہا ہو چکا ہے۔آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بھی یہی ناممکن ممکن بنادیا گیا تھا اور آج پھر اس ناممکن کوممکن بنانا حضرت محمد مصطفی ہے کے ان غلاموں کا کام ہے، جنہوں نے آپ کی پیشگوئی کے مطابق آئے ہوئے وقت کے امام کو قبول کیا اس کی آواز کو سنا اور اس پر لبیک کہا۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت احمد یہ اپنی اس ذمہ داری کو خوب اچھی طرح سمجھ لے گی لیکن ذمہ داری کا لفظ حقیقت میں اس صورتحال پر موزوں نظر نہیں آتا کیونکہ ذمہ داری میں ایک قسم کا بوجھ کا مضمون شامل ہے۔ذمہ داری یوں لگتا ہے جیسے کسی طالب علم کو جس کا دل پڑھنے کو نہ چاہ رہا ہو، یہ بتایا جارہا ہو کہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ تعلیم حاصل کرو اس کے بغیر تم دنیا میں ترقی نہیں کر سکو گے۔ذمہ داریوں کے ان معنوں میں روحانی قومیں انقلاب برپا نہیں کیا کرتیں۔ذمہ داری کی بجائے خدا کے کام ان کے دل کے کام بن جایا کرتے ہیں، ان کی جان کی لگن ہو جاتے ہیں ان کے ذہنوں کی وہ اعلیٰ مرادیں بن جاتے ہیں جن کی خاطر وہ جیتے ہیں جن کی خاطر وہ مرتے ہیں یہ وہ چیز ہے جو انقلاب بر پا کرنے کے لئے ضروری ہے۔پس بہتر الفاظ کی تلاش میں میں اگر چہ صحیح لفظ تلاش نہیں کر سکا اس لئے میں نے بار بار لفظ ذمہ داری استعمال کیا ہے۔لیکن ان معنوں میں ذمہ داری نہیں جن معنوں میں قرآن کریم نے اصرا ( البقرہ:۲۸۷) کا لفظ استعمال کیا ہے یعنی بوجھ کے معنوں میں نہیں بلکہ ایسے اعلیٰ مقصد کے اظہار کے طور پر میں یہ لفظ بول رہا ہوں جس مقصد سے انسان کو عشق ہو چکا ہو جو اس کے دل کی لگن بن چکا ہو۔جیسے محبوب کے پیار کے نتیجہ میں عاشق طرح طرح کی قربانیاں کرتا ہے اور ان کے دکھ محسوس نہیں کرتا۔محسوس کرتا بھی ہے تو وہ زیادہ پسند کرتا ہے کہ وہ دکھ محسوس کرے اور اپنے محبوب کی راہ پر چلتا رہے بجائے اس کے کہ آرام سے اپنے گھر بیٹھ رہے یا کسی اور طرف کا رخ اختیار کرے۔