خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 241 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 241

خطبات طاہر جلد ۱۱ 241 خطبه جمعه ۳ را پریل ۱۹۹۲ء ( میرا کہا انہوں نے ) ان سے کوئی بات نہیں کی (اور مجھے نہیں پتا کہ کیا بات کی ہے ) سخت بے چین تھیں اور بار بار مجھے پوچھتی تھیں کہ بتائیں کیا بیماری ہے۔میں ٹھیک ہو جاؤں گی کہ نہیں لیکن اس کے بعد ایسا اطمینان ہے کہ بے چینی کا کوئی اظہار نہیں اور بے قراری کا بالکل اظہار نہیں، نہ مجھ سے پوچھانہ بات کی مجھے ضرورت ہی نہیں پڑی تو اللہ کے فضل سے وہ بات کو سمجھ کر آخری دم تک دعا کے ساتھ اس سلسلہ میں قائم رہیں اور غیر اللہ کی طرف نہیں دیکھا۔آخر پر یہ حالت تھی کہ بجائے اس کے کہ ہم ان کو تسلی دیتے وہ ہمیں تسلی دیتی تھیں۔مجھے کہا کہ آپ بس کر یں اتنا نہ غم فکر کریں اتنا غم نہ لگائیں۔میں نے جواب دیا کہ بی بی میں مجبور ہوں۔مجھے تو دور کے غم بھی تکلیف دیتے ہیں کوئی کسی کونے میں بیمار ہوم میں بے چین ہو جاتا ہوں۔پاکستان میں احمدیوں نے میری جان نکالے رکھی ہے کبھی اتنا عذاب میں مبتلا نہیں ہوا جتنا پاکستان سے خبریں آنے پر اور احمدیوں کی تکلیف پر عذاب میں مبتلا ہوتا رہا ہوں تم تو میرے قریب ہو تمہارا تو دکھ میری آنکھوں کے سامنے بالکل پاس ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ میں محسوس نہ کروں ہاں اللہ صبر کی توفیق دیتا ہے۔میرا حال غم تک ہی ہے میں کوشش کرتا ہوں کہ غیروں پر نہ کھلے لیکن یہ کہو کہ تکلیف نہ ہو میں نے کہا یہ میرے بس کی بات نہیں ہے۔تو پھر اشارے سے کہا ٹھیک ہے میں سمجھ گئی ہوں لیکن بعض دفعہ مجھے یہی کہا کرتیں کہ آپ نے گھبرانا نہیں۔باوجود اس کے کہ کینسر کی اس بیماری میں شدید تکلیف اور عذاب میں مبتلا ہو کر لوگ مرتے ہیں لیکن کل یہ اللہ کا عجیب احسان تھا کہ آخری وقت میں بڑی ہی پرسکون تھیں۔میں نے کہا میں بچیوں کو بلاتا ہوں بلایا بھی لیکن کہتی تھیں کہ نہیں بلا نا ان کو گھبراہٹ ہوگی۔میں نے کہا کہ یہ بات میں نہیں مانوں گا ان کا حق ہے۔میں مجبور ہوں ان کو ضرور بلانا ہے نظر آرہا تھا کہ اب جارہی ہیں تو بچیاں آئیں ان سب کو یہی کہا کہ گھبرانا نہیں میں ٹھیک ہو جاؤں گی آپ نہ گھبرائیں۔پھر مجھے کہا کہ آپ جائیں آپ نے روزہ رکھا ہے نماز پر جانا ہے میں نے کہا میں آجاتا ہوں لیکن نہیں آپ نے واپس نہیں آنا۔میں نے کہا کہ نہیں وہ تو میں نے آنا ہی آنا ہے چنانچہ رات بارہ بجے کے قریب جو اطلاع ملی ہے وہ مبشر کی طرف سے یہی تھی ( ڈاکٹر مبشر نے بڑی خدمت کی ہے ) کہ اطلاع آئی ہے کہ حالت سخت تشویشناک ہے تو چنانچہ اسی وقت میں بچیوں کولے کر گیا تو رستے میں عزیزم ڈاکٹر مبشر احمد کاٹرانسمیشن کے ذریعہ یہ پیغام ملا کہ میں نیچے لفٹ کے