خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 240
خطبات طاہر جلدا 240 خطبه جمعه ۳ راپریل ۱۹۹۲ء مکھی کاٹے تو وہ اس سے بھی مرجاتے ہیں، چھینک آنے سے مرجاتے ہیں۔مرنے والے بغیر بہانے کے بھی مرجاتے ہیں تو اللہ کے بلانے کے ہزار لاکھ ، کروڑ رستے ہیں اور کینسر کوئی نعوذ باللہ خدا تو نہیں ہے اگر آپ کا پورا ایمان ہے اور آپ یقین رکھتی ہیں کہ خدا ہے اور خدا تعالیٰ میں قدرت ہے تو پھر دعا کریں لیکن کینسر کے اوپر اتنا زور نہ دیں گویا یہ بلا ایسی ہے جس کا کوئی علاج نہیں پھر میں نے ان کو سمجھایا کہ دیکھیں آپ کو لاحق بے چینی کی وجہ ہے۔آپ دعا کرتی ہیں تو دعا کے ساتھ دعا کے قبول نہ ہونے کا تصور ہی نہیں ہے آپ سمجھتی ہیں کہ دعا ضرور اسی رنگ میں قبول ہو جس طرح آپ کر رہی ہیں یا جس طرح لوگ آپ کے لئے کر رہے ہیں میں نے کہا کہ یہ دعا کے اندر نہیں ہے میں آپ کو سمجھا تا ہوں کہ دعا اس طرح کرنی چاہئے کہ پہلے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سپر د کریں اور یہ کہہ دیں کہ ہم ہر طرح راضی ہیں ، تیری رضا کے مطابق ہمارا دل سو فیصدی راضی رہے گا مطمئن ہے کوئی شکوہ نہیں اب ہماری التجا ہے کہ ایسا کر دے لیکن وعدہ ہے کہ ایسا نہیں کرے گا تو پھر بھی ہم تیرے ہی ہیں کوئی اور رستہ نہیں ہے۔پھر میں نے ان کو سمجھایا کہ دیکھیں میں بھی تو جاؤں گا ہم میں سے ہر ایک نے جانا ہے یہ تو ایسی چیز ہے جو اہل ہے۔بچوں کے نام لئے گھر جو مہمان ٹھہرئے ہوئے تھے ان کے بارہ میں کہا کہ ان میں سے ہر ایک پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ آخری جان کنی حالت میں بستر پر ہوگا۔میرے بچے بھی ہوں گے ان کی اولادیں بھی ہوں گی پہلے کوئی اس چیز سے بچ گئے تھے جو آپ کو یہ خیال ہے کہ شاید یہ بات ٹل جائے ایک دفعہ یہ کہا کہ مولوی ہنسیں گے میں نے کہا کہ جن کی قسمت میں بدبختی ہو ان کا میں کیا علاج کر سکتا ہوں۔تقدیر الہی پر اگر کوئی ہنستا ہے تو اس کی بدبختی ہے لیکن میں یہ دعا نہیں کروں گا کہ مولوی ہنستے ہیں اس لئے خدا یوں کرے میں نے جو آپ کو دعا کا طریقہ بتایا ہے وہ یہ ہے اور مجھے تو یہی پسند ہے یہ سنتے سنتے رقت پیدا ہو گئی۔آہستہ اشارہ سے کہا کہ بس کریں۔بس بس بہت ہوگئی اور یہ کہا میں خدا سے معافی مانگتی ہوں۔میں خدا سے معافی مانگتی ہوں میں خدا سے معافی مانگتی ہوں۔مجھ سے گناہ ہوا غلطی ہو گئی۔اے خدا! مجھے معاف کر دے آئندہ کہ کبھی ایسی حرکت نہیں کروں گی۔کبھی کسی سے ایسے نہیں پوچھوں گی اور اس عہد پر آخری دم تک قائم رہیں یہاں تک کہ Miss Harper نے کل حیرت سے کسی کو کہا کہ عجیب بات ہے جب تک انہوں نے