خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 239 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 239

خطبات طاہر جلدا 239 خطبه جمعه ۳ را پریل ۱۹۹۲ء باتیں پوری ہوگئی ہیں تو پھر پریشانی کی کیا وجہ ہے اس رنگ میں میں ان کو ٹالتار ہا لیکن تقریبا دس پندرہ دن کی بات ہے میں نے قرآن کریم کھولنے سے پہلے اس خواہش کا شدید اظہار کیا کہ اے خدا مجھے کچھ تو بتا اور جس آیت پر میری نظر پڑے وہی میرا پیغام ہو تو جس آیت پر نظر پڑی وہ یہ تھی۔ادْخُلُوهَا بِلم امنین اس جنت میں سلامتی اور امن کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔اس کے پہلے ہے إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّتٍ وَعُيُونِ (المجر :۴۶) کہ جنت باغات اور چشموں میں ہوں۔اُدْخُلُوهَا بِسَلْمِ آمِنِينَ اس میں تم سلام اور امن کے ساتھ داخل ہو تو وہ پیغام بالکل واضح تھا۔اس سے پھر میرے دل میں ایک بات گر گئی اور یہ اس کی بناپر نہیں بلکہ ویسے ہی مجھے یقین تھا کہ آپ جمعہ کے دن فوت ہوں گی۔پچھلے جمعہ بہت سخت Crises آیا ہے۔چند دن پہلے بالکل ٹھیک ٹھاک تھیں اور جمعہ کو بڑی تیزی سے حالت بگڑی اور اب پھر جمعرات کو تیزی سے حالت بگڑنی شروع ہوئی ہے۔تو جب تک جمعہ نہیں آیا۔اس وقت تک آپ کی حالت سنبھل چکی تھی اور بڑے سکون کے ساتھ بات کرتی تھیں لیکن اس سکون کی بھی ایک وجہ تھی وہ صرف بیماری سے تعلق رکھنے والی بات نہیں تھی بلکہ ایمانیات سے تعلق رکھنے والی بات تھی۔کچھ عرصہ پہلے Hospital کے ڈاکٹروں نے مجھے یہ پیغام بھیجا کہ آپ نے جو ہمیں کہا تھا کہ Growth کہا کریں تو آپ کے کہنے کی وجہ سے ہم اب تک کینسر کا نام نہیں لے رہے میں نے کہا تھا Growth کہا کریں Growth بھی تو کینسر کی ایک قسم ہے اور جھوٹ بھی کوئی نہیں ہے لیکن لفظ کینسر نہ بولیں اس سے ان کا دل بیٹھے گا اور پہلے ہی نصف دل کام کر رہا ہے۔بیماری بھی اتنی شدید ہے تعاون انہوں نے بڑا اچھا کیا۔عام طور پر اس قسم کی باتوں میں تعاون نہیں کیا کرتے لیکن بہت ہی تعاون کیا لیکن آخر مس ہار پر جو ڈاکٹر ہیں انہوں نے مجھے کہا کہ اب مزید مجھ سے برداشت نہیں ہوسکتا اب میں کل لازماً بتاؤں گی اس پر میں نے کہا کہ وہ جو بتائیں تو پھر میں بتاؤں گا اور ان کو میں نے کہا کہ آئندہ اگر آپ سے پوچھیں گی تو آپ بے شک بتائیں لیکن میں امید رکھتا ہوں کہ آئندہ آپ سے کبھی نہیں پوچھیں گی چنانچہ میں نے ان کو آرام سے آہستہ سے سمجھایا میں نے کہا آپ جو غیروں سے پوچھتی ہیں کہ آپ کو کینسر ہے کہ نہیں آپ یہ بتائیں کہ کینسر کوئی ایسی بیماری ہے جسے خدا ٹھیک نہیں کر سکتا اور اگر وہ مارنا چاہے تو وہ کینسر کا ہی محتاج ہے۔نزلے والے بھی مرجاتے ہیں شہد کی