خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 237 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 237

خطبات طاہر جلد ۱۱ 237 خطبه جمعه ۳ راپریل ۱۹۹۲ء کے متعلق کوئی خبر نہیں ملی۔عزیزہ فائزہ نے ایک اور رو یا بیان کی جو بالکل واضح تھی اور اس وقت سے پھر باوجود اس کے کہ دعا میں کوئی کمی نہیں کی اور خدا کے فضل سے تو کل قائم رہا ہے لیکن پیغام نظر آ گیا تھا کہ کیا ہے۔انہوں نے رویا میں دیکھا کہ عزیزہ نعیمہ کھو کھر جو یہاں لجنہ کی بڑی اچھی کارکن اور بی بی سے خصوصیت سے بہت تعلق رکھنے والی ہیں اور ہمیشہ ہر رنگ میں بہت خدمت کرتی رہیں وہ آئی ہیں اور بی بی فائزہ کو کہتی ہیں کہ آپ نے جلسہ میں نظم پڑھنی ہے اور اس کے لئے میں آپ کو تیاری کرواؤں گی۔تو فائزہ کہتی ہیں کہ مجھے در عدن دو میں اس میں سے نظم پڑھوں گی۔وہ کہتی ہیں نہیں ، در عدن سے نہیں پڑھنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک نظم ہے وہ چنی ہوئی ہے ایک عورت آپ کو پڑھ کر سنائے گی اور وہی پڑھنی ہے دوسری کوئی نہیں پڑھنی حالانکہ ان کی عادت تحکم کی بالکل نہیں لیکن فائزہ حیران ہوتی ہے جب وہ عورت نظم پڑھتی ہے تو وہ یہ ہے۔اک نہ اک دن پیش ہو گا تو فنا کے سامنے چل نہیں سکتی کسی کی کچھ قضا کے سامنے (درشتین: ۱۵۷) کہتی ہیں اتنی سریلی اور اتنی پر اثر آواز ہے کہ وہ دل میں ڈوب گئی اور سارے وجود پر ایک عجیب قسم کی سکینت طاری ہوگئی با وجود اس کے کہ بظاہر ڈراؤنی تھی یعنی پیغام موت کا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے سکینت طاری فرما دی تو جب انہوں نے مجھے رؤیا سنائی تو ساری بات بالکل واضح نظر آ رہی تھی۔بہت سے احمدی دوست ایسی رویا بھیجتے رہے ہیں جن میں بظاہر خوشخبری تھی لیکن جن کو رویا کی پہچان ہوان کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس میں کوئی معنی نہیں ہے رویا میں جو پیغامات ملا کرتے ہیں وہ تصویری زبان میں ملتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کا ایک خاص انداز ہے جو عام نظاروں سے خدا کی بھیجی ہوئی رویا کو مختلف کر دیتا ہے چنانچہ اکثر یہ جو رویا آتی ہے کہ ہم نے دیکھا بی بی بہت بیمار ہے بہت خطرناک حالت ہے پھر ایک دم اچھی ہو جاتی ہیں یہ اگر کوئی پیغام رکھتی ہیں تو خطر ناک پیغام ہے کیونکہ اکثر میرا تجربہ ہے کہ جب کسی بہت خطر ناک مریض کے متعلق دکھایا جائے کہ ایک دم اچھا ہو گیا تو اس سے مراد صحت نہیں بلکہ وصال ہوا کرتا ہے۔تو ایسی رؤیا کثرت سے آتی رہیں اور بعض رویا ایسی تھیں جن کی رؤیا دیکھنے والوں نے اور تعبیر کی لیکن تعبیر بالکل مختلف تھی۔مثلاً ایک بچی نے مجھے رویا بھیجی یا کسی نے