خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 19
خطبات طاہر جلد ۱۱ 19 خطبه جمعه ۱۰/ جنوری ۱۹۹۲ء یہ وہ وعدے ہیں جو آج جماعت احمدیہ کے سوا تمام دنیا میں کسی اور مذہبی جماعت سے نہیں کسی اور سیاسی جماعت سے نہیں۔کسی قوم سے نہیں، آپ سے ہیں ، آپ سے ہیں، آپ سے ہیں۔پس جب خدا کے نزدیک آپ کے اندر یہ صلاحیتیں موجود ہیں کہ ایمان کے بعد آپ کی بدیاں دور ہونی شروع ہوں آپ میں نئی صلاحیتیں جاگنی شروع ہوں اور خدا کے رستہ میں آپ ترقی کرتے ہوئے دن بدن ہر بدی کے بدلے اپنی ذات میں حسن پیدا کرتے چلے جائیں یہانتک کہ وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ (آل عمران : ۱۹۴) کا وقت آپہنچے۔ایسی حالت میں آپ اپنے ربّ کے حضور لوٹ رہے ہوں کہ خدا کی نظر آپ پر اس حالت میں پڑ رہی ہو کہ خدا آپ کو ابرار کے زمرے میں شمار کر رہا ہو۔پس یہ وہ صلاحیتیں ہیں جن سے آپ آشنا تو ہیں لیکن ان کی اہمیت ابھی دل میں پوری طرح اجاگر نہیں ہوئی۔پوری طرح وہ اہمیت دل میں بیدار نہیں ہوئی۔آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے ساتھ انقلاب کے تار وابستہ ہیں۔آپ کے دلوں کی دھڑکنوں کے ساتھ آج قوموں کی تقدیر وابستہ ہو چکی ہے۔آپ اٹھیں گے تو دنیا جاگ اٹھے گی۔آپ سوئیں گے تو سارا عالم سو جائے گا۔اس لئے آج آپ دنیا کا دل ہیں ، آج آپ دنیا کا دماغ ہیں، آپ کو خدا تعالیٰ نے وہ سیادت نصیب فرمائی ہے جس کے نتیجہ میں تمام دنیا کو سعادتیں نصیب ہوں گی۔پس اس پہلو سے اپنے مقام اور مرتبے کو سمجھیں اور نئے عزم کے ساتھ ، نئے ولولوں کے ساتھ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام اپنے ماحول اپنے گردو پیش میں دینا شروع کریں۔بظاہر یہ ایک بہت ہی دور کی بات دکھائی دیتی ہے کہ اتنے تھوڑے سے احمدی، جو اس وقت پاکستان میں بھی اپنی ظاہری طور پر معقول تعداد کے باوجود پاکستان کے باقی باشندوں کے مقابل پر اتنی حیثیت بھی نہیں رکھتے کہ اپنے بنیادی حقوق ان سے حاصل کر سکیں۔ہندوستان کے احمدیوں کا حال مقابلہ اس سے بھی زیادہ نازک ہے۔اتنی معمولی تعداد ہے کہ اس تعداد کو دیکھتے ہوئے دنیا کے حساب سے اربع لگانے والا یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اس قوم کو کبھی غلبہ نصیب ہو سکتا ہے لیکن قرآن کریم کا جو وعدہ ہے وہ بہر حال پورا ہوگا۔وہ صفات حسنہ آپ کو عطا ہو چکی ہیں۔ان صفات سے کام لینا اور باشعور طور پر یہ یقین رکھنا کہ آپ ہی کے ذریعہ دنیا میں انقلاب ہوگا۔یہ سب سے پہلا قدم ہے جو انقلاب کی جانب آپ اٹھا سکتے ہیں۔یہ قدم آپ اٹھائیں تو خدا کی تقدیر دس قدم آپ کی طرف آئے گی۔آپ چل کر خدا کی تقدیر کی طرف آگے