خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 231 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 231

خطبات طاہر جلد ۱۱ 231 خطبه جمعه ۳ راپریل ۱۹۹۲ء حضرت آصفہ بیگم صاحبہ کی وفات اور اُن کا ذکر خیر خطبه جمعه فرموده ۳ را پریل ۱۹۹۲ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کی تلاوت کی۔كُل مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّ بْنِ (الرحمن:۲۷-۲۹) پھر فرمایا:۔سورۂ رحمن کی جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے ان میں ایک ایسا عظیم الشان دائمی اعلان کیا گیا ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں اور توحید کا گہرا راز اس میں بیان فرمایا گیا ہے اور خدا کے واحد اور احد ہونے کے باوجود مخلوقات سے اس کے تعلقات کا راز اس میں کھولا گیا ہے۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ۔ہر وہ چیز جو سطح ارض پر موجود ہے وہ مٹ جائے گی باقی نہیں رہے گی فَانِ۔ہلاک ہونے والی ہے وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ تیرے رب کا چہرہ جو جلال اور اکرام والا چہرہ ہے صرف وہی باقی رہے گا لیکن اس آیت کے ترجمہ میں ترجمہ کرنے والوں کو دقت پیش آتی ہے اور اس لئے مختلف ترجمے پیش کیے جاتے ہیں ”خدا کا چہرہ سے کیا مراد ہے؟ بعض لوگ اس سے ذات باری تعالیٰ مراد لیتے ہیں اور ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ خدا کی ذات باقی رہے گی اور ہر دوسری چیز مٹ جائے گی بعض یہ ترجمہ کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی نگاہیں جس پر پڑیں اور جس کو خدا کا وجہ نصیب ہو جائے وہ مستثنیٰ ہے وہی باقی رہے گا جسے اللہ کی رضا حاصل ہوگی اور خدا کی رضا باقی رکھے۔حضرت مصلح موعودؓ نے یہی عارفانہ ترجمہ تفسیر صغیر میں فرمایا