خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 229
خطبات طاہر جلدا 229 خطبه جمعه ۲۷ مارچ ۱۹۹۲ء فرمائے اور خدا کرے کہ ہم میں سے ہر ایک کو یہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ نصیب ہو تو ہم بھی اس نور کی حفاظت کریں اور دل و جان سے اس پر نگران رہیں ۔ اپنے نفس کی پھونکیں ہیں جن سے ہمیں ڈرنے کی زیادہ ضرورت رہتی ہے۔ انفسنا دشمن کی پھونکیں بے حقیقت اور بے معنی ہیں لیکن نفس کی پھونکیں زیادہ خطرناک ہیں ۔ وہ اس نور کو بجھانے کی زیادہ صلاحیت ر کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس لئے یہ دعا بھی سکھ یہ دعا بھی سکھائی گئی من من شرور انفسنا ومـن سـيـات اعــمـا لنا ( ترندی کتاب النکاح حدیث نمبر : ۱۰۲۳) کہ اے خدا ہم تجھ سے من شرور اپنے نفس کے شرور سے پناہ مانگتے ہیں۔ و من سیات اعمالنا اور اپنے اعما اور اپنے اعمال کی بدیوں سے ۔ یہ سب سے زیادہ خطرناک حملہ ہے جو انسان پر ہو سکتا ہے اور وہ شیطان اس نور کے بجھانے کے درپے ہوتا ہے جو انسان کے رگ وریشے میں موجود ہے اور یہ اس انسان کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے۔شرور انفسنا ومن سیات اعمالنا ۔ ہمارے اندر دبے ہوئے کچھ شرور ہیں اور شر کا بھی شعلے سے ایک تعلق ہے لیکن یہ شیطانی شعلہ ہے ۔ یہ خدا کے نور کو بجھانے کے لئے کوشش کرنے والا شعلہ ہے۔ اور اس کے مقابل پر جو آسمانی نور ہے اس کو نو ر کہا گیا ہے نادر نہیں فرمایا گیا۔ صلى الله ی علی کے نور کے ساتھ پس دعا کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس رمضان کے اس آخری عشرے میں اس حالت میں داخل فرمائے کہ ہم میں کثرت سے لَيْلَةُ الْقَدْرِ کی زیارت کرنے والے پیدا ہوں، ایسے خوش نصیب پیدا ہوں جن کو خدا تعالیٰ خدا تعالیٰ کی طرف سے قرآن ! ر آن اور محمد مصطفی اعلا ایک دائمی تعلق عطا ہو اور وہ تعلق ان کی سابقہ زندگی کے تمام اندھیروں کو روشنی میں بدل دے۔ ایسے لوگ اگر پیدا ہوں گے تو پھر زمانے کی تقدیریں ان سے وابستہ ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کا سورہ عصر میں ذکر فرمایا گیا۔ وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ ۔ ہم زمانے کی قسم کھاتے ہیں ۔ سارا زمانہ اس بات پر گواہ ہے کہ انسان بحیثیت انسان گھاٹے میں چلا گیا۔ مشرق بھی گھاٹے میں چلی گئی، مغرب بھی گھاٹے میں چلی گئی ۔ شمال اور جنوب بھی ، کالے اور گورے اور زرد اور سرخ تمام قو میں اس وقت گھاٹے کی حالت میں ہیں۔ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ۔ ہاں خدا کے پاک رسول محمد مصطفی ﷺ کے شیروں کے، وہ مستثنیٰ قرار دیے گئے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حقیقی معنوں میں حضرت رسول اکرم ﷺ کو قبول کیا اور آپ پر ایمان لائے اور اس کے نتیجہ میں آپ صلى الله علوسه -