خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 228
خطبات طاہر جلد ۱۱ 228 خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۹۲ء دفعہ روشنی میں بدل دیتا ہے۔یعنی ایسی امید میں تبدیل کر دیتا ہے جس کے بعد آپ کا نور خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کے منشاء کے مطابق تدریجاً بڑھتا رہتا ہے۔بعضوں میں زیادہ تیز رفتاری سے بڑھتا ہے، بعضوں میں نسبتا کم تیز رفتاری سے بڑھتا ہے اور یہ نور انسان کی حفاظت کرتا ہے اور انسان کے لئے اس حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ وہ استغفار سے کام لے۔مغفرت کا اس نور کو بچانے اور سنبھالنے کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔حقیقی لَيْلَةُ الْقَدْرِ تو اس کی ہے جس کے پاس یہ نور ہمیشہ کے لئے رہے لیکن بعض دفعہ ایک انسان کو نور عطا ہوتا ہے اور اپنی غفلت سے اس کو سنبھال نہیں سکتا۔اسے بچانے کے لئے اس کو جو کوشش کرنی پڑتی ہے اس کا نام استغفار ہے۔جیسے بعض دفعہ آپ دیا لے کر چلتی ہوئی ہواؤں میں نکلیں تو کس طرح آگے ہاتھ رکھ رکھ کر یا عورتیں بعض دفعہ اپنی چادر کے پلو ڈال ڈال کر اس کو بچانے کی کوشش کرتی ہیں۔یہی استغفار ہے۔استغفار کا مطلب یہ ہے کہ پناہ میں آنا، چھپنا کسی بداثر سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرنا، اُس سے تعلق توڑنا۔پس ہواؤں سے اس طرح اپنے آپ کو بچانا یہ استغفار ہے۔ہمیں یہ خوشخبری تو دی گئی ہے کہ جو نور آنحضرت ﷺ کو عطا ہوا اس کو دنیا کی کوئی آندھی بجھا نہیں سکے گی وہ ہمیشہ چمکتا رہے گا لیکن ہر شخص کو اس بات کی ضمانت نہیں دی گئی کہ اس کا نور محفوظ رہے گا بلکہ استغفار کے ذریعہ ہمیں نصیحت فرمائی گئی کہ مسلسل اس نور کی حفاظت کی کوشش کرو۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالے فرماتا ہے کہ محمد مصطفی ﷺ کا نور لوگوں کی پھونکوں سے بجھایا نہیں سکتا۔ایسا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ پیشگی کا نور ہے اور خدا اس کی حفاظت فرما رہا ہے لیکن اس ضمانت کے باوجود حضرت اقدس محمد مصطفی مے بھی ہمیشہ اس نور کی والحانہ حفاظت فرمایا کرتے تھے۔دن کو بھی استغفار فرماتے تھے، راتوں کو بھی استغفار کیا کرتے تھے ، زندگی کا ہر لمحہ اس نور کے گرد استغفار کی حطانیں میں قائم کرتارہتا تھا اور ان کو مضبوط بناتا چلا جاتا تھا اور اونچا کرتا چلا جاتا تھا۔پس خدا کی طرف سے اس نور کی حفاظت کا جو وعدہ ہے اس نے آنحضور ﷺ کو غافل نہیں کیا بلکہ اس کی اور زیادہ قدر کر دی۔اور زیادہ آپ کی طرف سے اس نور کو قائم دائم رکھنے کے لئے کوششیں ہوئیں۔پس ہم جو کمزور ہیں ہم پر بھی لازم ہے کہ اگر خدا تعالیٰ ہمیں لَيْلَةُ الْقَدْرِ عطا