خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 18 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 18

خطبات طاہر جلدا 18 خطبه جمعه ۱۰/ جنوری ۱۹۹۲ء اسلام کا پیغام پھیلے اور کثرت کے ساتھ فوج در فوج لوگ اسلام میں داخل ہونا شروع ہوں۔یہی وہ حقیقی فتح ہے جس کے نتیجہ میں قادیان کی اس واپسی کی داغ بیل ڈالی جائے گی جس واپسی کی خوا ہیں آج سب دنیا کے احمدی دیکھ رہے ہیں لیکن وہ خواہیں تب تعبیر کی صورت میں ظاہر ہوں گی جب ان خوابوں کی تعبیر کا حق ادا ہوگا اور خوابوں کی تعبیر بنانا اگر چہ تقدیر کا کام ہے لیکن انسانی تدبیر کے ساتھ اس کا گہر ادخل ہے اور قرآنِ کریم نے جو مذہبی تاریخ ہمارے سامنے رکھی ہے اس میں اس مضمون کو خوب کھول کر بیان فرما دیا ہے کہ الہی بشارتوں کے وعدے بھی ، اگر قوم تقدیر کے رُخ پر تد بیر اختیار نہ کرے تو ٹل جایا کرتے ہیں اور انذار کے ٹلنے کی تو بے شمار مثالیں ہیں۔جب بھی کسی قوم نے اپنے دل کی حالت بدلی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انذار کی تقدیر بھی بدل گئی اور وہ قوم جو اپنے دل کی حالت کو بدل کر بگاڑ کی طرف مائل ہو جائے خدا تعالیٰ کی مبشر تقدیر بھی اس قوم کیلئے بدل جایا کرتی ہے۔پس ہماری تقدیر کا ہماری اس تقدیر سے گہرا تعلق ہے جو اعمال صالحہ کے نتیجہ میں رونما ہوتی ہے اور جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل کا پانی آسمان سے برستا ہے۔پس میں ایک دفعہ پھر جماعت ہائے احمد یہ ہندوستان اور جماعت ہائے احمد یہ پاکستان کو خصوصیت سے یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ایک جھر جھری لیکر بیدار ہو جائیں۔آپ کے اندروہ صلاحیتیں موجود ہیں جو انقلاب بر پا کرنے والی صلاحیتیں ہوا کرتی ہیں۔آپ جیسی اور کوئی قوم دنیا میں موجود نہیں۔آپ وہ ہیں جنہوں نے سرتا پا اپنے آپ کو خدا کے حضور پیش کر رکھا ہے اور اس دنیا میں رہتے ہوئے اس دنیا سے الگ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ہر قسم کی تکالیف اور دکھوں کو برداشت کرتے ہوئے تو حید اور حق کے ساتھ چھٹے ہوئے ہیں اور ان لوگوں میں شامل ہیں جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہ یہ اعلان کرتے ہیں کہ رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيَا يُنَادِى لِلْإِيمَانِ ان امِنُوا بِرَبِّكُمْ فَأَمَنَّا ( آل عمران (۱۹۴) کہ اے ہمارے رب ! ہم نے ایک پکارنے والے کی آواز کو سنا جو یہ اعلان کر رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لے آؤ۔فَأَمَنَا پس ہم ایمان لے آئے۔پس آپ مومنوں کی وہ جماعت ہیں جن کے ساتھ خدا تعالیٰ کے وعدے ہیں کہ وہ آپ کی برائیوں کو دور فرمائے گا۔آپ کی کمزوریوں سے درگز رفرمائے گا اور آپ کو دن بدن رو بہ اصلاح کرتا چلا جائے گا یہانتک کہ موت نہیں آئے گی سوائے اس کے کہ خدا کی نظر میں آپ ابرار میں شامل ہو چکے ہوں۔