خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 223 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 223

خطبات طاہر جلدا 223 خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۹۲ء پر ایمان ہی نہیں لاتے بلکہ عمل صالح سے اُس ایمان کی تصدیق کرتے ہیں اور پھرا کیلے نہیں رہتے بلکہ اجتماعی کوشش کرتے ہیں۔وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔تو اُن کے ذریعہ رات کس طرح تبدیل کی جائے گی اور وہ کیسے تبدیل کی جاتی ہے اس مضمون کو بیان فرمایا۔وہ ایسے بندے ہوں گے جو گھاٹے والے زمانہ سے مستثنیٰ ہوں گے لیکن استثناء صرف اُن کی ذات تک محدود نہیں رہے گا۔وہ اسی بات پر راضی نہیں رہیں گے کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے مستثنیٰ کر دیا اور ہم ہلاک الله ہونے والے نہیں بلکہ اُن کی صفات یہ بیان فرمائیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے والے ہیں، نیک اعمال کرنے والے ہیں اور ان دونوں باتوں کو اپنی ذات تک محدود رکھنے والے نہیں بلکہ دعوت الی اللہ کرنے والے ہیں، اپنی خوبیوں کو زمانے میں پھیلانے والے اور اپنی نیکیوں کو دنیا میں بانٹنے والے ہیں اور اُن کا طریق کیا ہے؟ فرمایا وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ۔نیک نصیحت اُن کے پیغام پہنچانے کا ذریعہ ہے۔کوئی تلوار اُن کے ہاتھ میں نہیں کوئی نیزے کی انی اُن کے پاس نہیں ہیں جس سے ڈرا کر اور سینوں کو چھید کر وہ دلوں میں ایمان داخل کریں۔وہ نیک نصیحت کرنے والے لوگ ہیں اور نیک نصیحت ایسی جو حق کے ساتھ کرتے ہیں، حق بات کی کرتے ہیں اور حق پر قائم رہتے ہوئے نیک نصیحت کرتے ہیں اور پھر دنیا خواہ سنے یا نہ سنے مایوس نہیں ہوتے اور اپنی نصیحت پر قائم رہتے ہیں اور مستحکم رہتے ہیں، ان کے پائے ثبات پر لغزش نہیں آتی۔وہ اس بات سے قطع نظر کہ کوئی کیسے ان کی نصیحت کا جواب دیتا ہے، نیک نصیحت کرتے ہیں اور کرتے چلے جاتے ہیں۔چنانچہ فرمایا وَتَوَاصَوْا بِالصّبرِ۔وہ صبر کے ذریعہ نیک نصیحت کرتے ہیں مسلسل کرتے چلے جاتے ہیں۔کبھی نہیں تھکتے اور پھر دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کرتے ہیں۔جس کا مطلب ہے کہ وہ زمانہ بہت سے دکھوں میں مبتلا ہوگا اور اُن انسانوں کو صبر کی تلقین کرنا اُن کی اُمیدوں کو زندہ رکھنے کے لئے ضروری ہوگا۔پس وہ خود بھی خدا کے صابر بندے ہیں، نیک نصیحت پر صبر کر کے بیٹھ رہتے ہیں ، حق بات کی نصیحت کرتے ہیں اور وہ لوگ جو بے چین ہوتے ہیں کہ زمانے کا کیا بنے گا اور ان کو بھی صبر کی تلقین کرتے ہیں اور ان کو بتاتے ہیں کہ یہ وہ نور ہے جو ضائع ہونے کے لئے نہیں آیا ہے، یہ وہ نور ہے جس کی سرشت میں ناکامی نہیں لکھی گئی۔یہ لازماً غالب آنے والا نور ہے کیونکہ یہ وہی نور ہے جس کے متعلق قرآن کریم نے پہلے بیان فرمایا ہے کہ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ کہ فجر تولا ز ما طلوع ہوگی اور