خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 214
خطبات طاہر جلدا 214 خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۹۲ء فرمایا کہ مومن کی نیت اُس کے عمل سے بہتر ہے۔یہ حدیث حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی اور اس کی کوئی سند نہیں ملتی تھی۔میاں انیس احمد صاحب کو علمی شوق ہے آخر انہوں نے ایک کتاب سے جس کا نام اس وقت مجھے یاد نہیں لیکن صحیح کتاب ہے جو مؤقر کتاب ہے سے اس سند کو تلاش کر کے مجھے بھجوایا۔جب میں نے اس حدیث پر غور کیا تو مجھے تعجب ہوا کہ عمل جو نیک نیتی کے ساتھ کیا جائے وہ بہر حال بہتر ہوتا ہے۔خالی نیست عمل سے بہتر کیسے ہوگی ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ مضمون سمجھایا کہ اس میں گہری حکمت یہ ہے کہ مومن کی نیتیں جو دل کی گہرائی سے نکلتی ہیں بہت زیادہ نیک عمل کی خواہاں ہوتی ہیں اور کسی انسان میں یہ طاقت ہی نہیں کہ اپنی خواہشوں کے مطابق اپنی ہر نیت کو عمل میں ڈھال سکے۔اسی طرح بدلوگ بدی کی نیتیں بہت رکھتے ہیں لیکن کس بد کو تو فیق ملتی ہے کہ وہ ہر بدی کر سکے اسی لئے تو غالب نے یہ کہا ہے کہ ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد یارب! اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے (دیوان غالب صفحہ: ۳۴۶) تو مومن کو نا کردہ وہ نیکیوں کی حسرت کی داد چاہئے اور کئی نیکیاں اُس کے دل میں ہوتی ہیں۔نیت میں موجود ہوتی ہیں لیکن انہیں وہ کر نہیں سکتا اور اس مضمون کو جب آپ احمدی زندگی پر اطلاق کر کے دیکھیں تو آپ کو کثرت سے ایسے احمدی دکھائی دیں گے جن کے دل میں خواہش ہوتی ہے کہ میں بھی روس میں تبلیغ کے لئے جاؤں، میں فلاں چندے میں حصہ لوں ، وہ چند قدم بڑھ سکتے ہیں پورا کام نہیں کر سکتے ہیں۔پس اس پہلو سے مومن کی نیتیں اس کے عمل سے بڑھ جاتی ہیں اور اس حدیث میں یہ خوشخبری ہے کہ مومن کو اللہ تعالیٰ اُس کی اس نیت کا بھی ثواب دیتا ہے جو وہ کر نہیں سکا جسے وہ عمل میں نہیں ڈھال سکا۔تو اپنی نیتوں کو خوبصورت اور حسین بنا دیں اور للہ وقف کر دیں۔پھر دیکھیں کہ آپ کی دعوت الی اللہ میں کتنی برکت پڑتی ہے۔خدا کرے کہ ہماری نیتیں زیادہ سے زیادہ عمل کے سانچوں میں ڈھل سکیں اور جو نہیں ڈھل سکیں ان کو بھی خدا تعالیٰ قبول فرمالے اور ان کا ثواب مترتب فرمائے۔آمین ثم آمین۔