خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 213
خطبات طاہر جلد ۱۱ 213 خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۹۲ء کئی ایسے قیدی ہیں جن کے ساتھ احمدیوں نے رابطے کئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان میں بہت سی پاک تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔ابھی کچھ دن پہلے مجھ سے بھی ایک انگلستان کے قیدی ملنے کے لئے آئے ، وہ پیرول پر کچھ دیر کے لئے باہر آئے تھے، انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک احمدی نے مجھ سے بات شروع کی، میں اُس کے کردار اور اُس کی گہری ہمدردی سے جو وہ میری بھلائی چاہتا تھا اور دوسرے قیدیوں کی بھلائی چاہتا تھا اس سے اتنا متاثر ہوا ہوں کہ میں بڑی تیزی کے ساتھ احمدیت میں دلچسپی لینے لگا۔اُس نے بتایا کہ جب دوسرے مسلمانوں کو علم ہوا اور بعض مولوی بھی وہاں آتے ہیں تو انہوں نے مجھے پورے زور سے روکنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ یہ بہت گندے ہیں اور خبیث لوگ ہیں۔اس سے بہتر ہے کہ تم عیسائی رہو لیکن اُن کے جال میں نہ پھنسنا۔کہتا ہے میں نے اُن کو بتایا کہ تمہیں پتا کیا ہے؟ میں اُن کو جانتا ہوں اگر کوئی شرافت، نجابت انسانی قدریں ہیں تو ان لوگوں میں ہیں۔اگر مذہب یہ قدریں پیدا کرنے کے لئے نہیں آتا تو مجھے ایسے مذہب میں کوئی دلچسپی نہیں ہے تو تم اپنی دلیلیں اپنے پاس رکھو۔میں نے تو جن کا ہونا تھا ہو چکا ہوں چنانچہ وہ بڑے خلوص کے ساتھ اور محبت کے ساتھ مجھے ملنے کے لئے آئے اور کہا کہ اب میں کل واپس جیل جاؤں گا اور میرا بقیہ جتنا عرصہ وہاں بسر ہوگا میں نے احمدیت کی تبلیغ کے لئے وقف رکھنا ہے تو قیدی ہوں یا اور کئی قسم کے مریض اور بیمار اور گندی عادتوں میں مبتلا اور ڈرگز (Drugs) میں پھنسے ہوئے ہیں اور کئی قسم کی مشکلات میں گرفتار لوگ ایسے ہیں کہ جن کے اندرا گر آپ دلچسپی لیں گے اور دلچسپی لیتے ہی پیغام نہیں دیں گے بلکہ دلچسپی لیتے ہوئے ان کی ایسی بھلائی کے انتظام کریں گے جس میں ان کو دلچسپی ہو تو پھر وہ منزل آئے گی کہ وہ آپ میں اور آپ کے پیغام میں دلچسپی لینے لگیں گے۔ان کے اندر وہ طلب پیدا ہوگی جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ کو خدا تعالیٰ وہ پرندے عطا کرے گا جنہیں ابراہیمی طیور کہہ سکتے ہیں جو آپ کے ہو جائیں گے۔پھر جس ماحول میں بھی جائیں گے آپ کی ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے وہ آپ کے قدموں میں یا آپ کی جھولی میں آجایا کریں گے۔آپ کے ہاتھوں پر بیٹھ جایا کریں گے۔آپ کے ہو جائیں گے اور خدا کے ہو جائیں گے۔یہ وہ نیت ہے جس کو لے کر آپ نے دعوت الی اللہ کا کام کرنا ہے۔اس ضمن میں میں آپ کو ایک دلچسپ حدیث سناتا ہوں۔آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ