خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 212 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 212

خطبات طاہر جلد ۱۱ 212 خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۹۲ء پرانے زمانوں میں ہندوستان میں مجھے یاد ہے عورتیں راکھ میں آگ دبا دیا کرتی تھیں اور صبح صبح خشک لکڑیاں لے کر بیچ میں سے چنگاری تلاش کیا کرتی تھیں اور اس چنگاری پر کاغذ رکھ کر یا بار یک خشک لکڑیاں رکھ کر پھونکیں مار کر اس آگ کو زندہ کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔یاد رکھیں ہر انسان میں اللہ تعالیٰ نے زندگی کی صلاحیتیں رکھی ہوئی ہیں۔وہ دب جاتی ہیں بعض دفعہ راکھ کے ڈھیر کے تلے نظروں سے غائب ہو جاتی ہیں مگر ضرور ہوتی ہیں۔بد سے بدآدمی میں بھی بعض ایسی خوبیاں ہیں جن ے تعلق پیدا کر کے آپ اس کو زندہ کرنا شروع کر سکتے ہیں یعنی اس شخص کی زندگی کے سامان فراہم کر سکتے ہیں۔پس جب آپ کسی شخص سے ایسا تعلق پیدا کریں گے تو اُس کو آپ سے اسی قسم کا ایک تعلق پیدا ہوگا اور یہ ہ تعلق ہے جو زبان سے کسی پیغام کی طرف بلانے کے نتیجہ میں پیدا نہیں ہوا کرتا۔ی زندگی کا گہرا تعلق ہے جس میں ایک انسان محسوس کر لیتا ہے اور اس کا دل گواہی دیتا ہے کہ یہ شخص سچا ہے، اسے میری بقا میں دلچسپی ہے اور میری بھلائی میں دلچسپی ہے اسے مجھ سے کوئی اپنا مقصد نہیں ہے بلکہ میرے سارے مقاصد اس سے وابستہ ہیں۔پس جب آپ فرض کریں کسی مریض کے پاس ہسپتال جاتے ہیں تو اس طرح ہمدردی کریں کہ اس کا ظاہری آزار دور ہو، اس کو مشورے دیں اس کا خیال رکھیں۔اگر ایسے مرض کا کوئی تجزیہ ہو تو بتائیں کہ فلاں جگہ ایسا مریض شفا پا گیا اور اس تک پہنچنے میں جو مدد دے سکتے ہیں اس کو دیں۔اب میں اپنی بیگم کی بیماری کے سلسلہ میں ہسپتال جاتا ہوں تو اردگرد کے مریضوں سے جن سے بھی رابطہ ہو ان کو میں مشورے دیتا ہوں آپ یہ کریں وہ کریں۔میں خود تو آپ کا علاج نہیں کر سکتا کیونکہ میرے پاس لائسنس نہیں ہے لیکن آپ فلاں فلاں ڈاکٹر سے رابطہ کریں امریکہ میں یا انگلستان میں فلاں قسم کے علاج ایجاد ہو چکے ہیں اور خدا کے فضل سے اس کے نتیجہ میں مریضوں میں بڑی گہری دلچپسی پیدا ہوتی ہے اور اُن کے رشتہ داروں میں بڑی دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔بعض لوگ بعد میں پوچھتے ہیں کہ یہ کون شخص تھا جو یہ باتیں ہم سے کر گیا ہے تو آپ کو انسان کی ذات میں دلچسپی لینی چاہئے اور اس ضمن میں جو میں اب بات کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ اس کی خوبیوں کو تلاش کرنا چاہئے۔اس کی خوبیوں سے اپنا تعلق جوڑ نا چاہئے اور اس کی خوبیوں کی افزائش کا انتظام کرنا چاہئے اور اس کو بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر اس ضمن میں قیدیوں کے ساتھ رابطے میں جماعت احمدیہ کے لئے بڑے مواقع ہیں۔