خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 211
خطبات طاہر جلدا میں بہت زیادہ فرق پیدا ہو جاتا ہے۔211 خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۹۲ء پس آپ کی نیت زندہ کرنے کی ہے، آپ کی نیت بچانے کی ہے۔آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس زمانے کے لئے مسیحا نفس بنائے گئے ہیں۔اگر آپ نے زمانے کو نہ بچایا تو اس کے بچنے کے آثار نہیں ہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہاماً بتایا گیا کہ یہ لوگ زندگی کے فیشن سے دور جا پڑے ہیں۔“ ( تذکرہ صفحہ :۴۲۶) دیکھیں کتنا پیارا اظہار ہے، زندگی کے فیشن سے ان کو زندگی کی ادائیں ہی نہیں یاد ہیں اور بظاہر فیشن میں مبتلا ہیں لیکن یہ موت کے فیشن ہیں جو قوموں کو ہلاک کر دیا کرتے ہیں۔زندگی کے فیشن نہیں ہیں۔زندہ رہنے کے گر ان کو یاد نہیں رہے اس لئے آپ نے ان کو زندگی کے فیشن سکھانے ہیں اور واقعہ دعوت الی اللہ زندہ کرنے کی خاطر کرنی ہے ورنہ اگر آپ نے ان کو زندہ نہ کیا تو یہ نہیں بچائے جائیں گے۔آنحضرت ﷺ کے متعلق خدا تعالیٰ نے اسی لحاظ سے فرمایا کہ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ (الانفال : ۲۵) یہ تمہیں زندہ کرنے کی خاطر بلاتا ہے مارنے کی خاطر نہیں۔پس ہر دعوت الی اللہ کرنے والے کو ہمیشہ یہ مقصد پیش نظر رکھنا چاہئے کہ میں نے زندہ کرنا ہے اور یہ اعلیٰ مقصد پیش نظر رہے تو اُس کے من پر اس کا بہت ہی صالح اثر پڑے گا اور اس کے نتیجہ میں اس کو خدا تعالیٰ خود بخود ایسے آداب اور ایسے اسلوب سکھلائے گا جن سے دعوت الی اللہ کرنے والے میں زندگی کے آثار دن بدن نمایاں ہونے شروع ہو جائیں گے۔ایسا شخص تبلیغ کو محض دلائل میں محدود نہیں کرے گا، اس کا مقصد زندہ کرنا ہے، وہ اس کی نیکیوں کو تلاش کر کے اُن کو اُبھارنے کی کوشش کر رہا ہو گا۔وہ کوشش کرے گا کہ اس کے اندر کوئی دبی ہوئی چنگاری، کوئی زندگی کی رمق موجود ہے تو اُسے ہوا دوں، اُسے پھونکوں ، اُس کو آہستہ آہستہ طاقت بخشوں اور اُس کے اندر جو ادھر اُدھر بیکا رلکڑیوں کا انبار لگا پڑا ہے اُسے اُس چنگاری کے ذریعہ ایک زندہ نور کی شکل میں تبدیل کر دوں۔پس یہ وہ نکتہ ہے جسے میں خاص طور پر آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔آپ زندہ کرنے والے ہیں اور زندگی پیدا کرنے کے لئے ضروری نہیں کہ پہلے کوئی پیغام کو تسلیم کر لے۔ہر شخص کے اندر مخفی خوبیاں ہوتی ہیں۔آج کل تو دیا سلائیوں اور لائیٹروں (Lighters) کے زمانے ہیں۔